وانا (قسمت اللہ وزیر ) جنوبی وزیرستان لوئر کی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، تاجر برادری اور قبائلی عمائدین نے ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا میں اتوار کے روز ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر واقع انگور اڈا بارڈر کی مسلسل 21 ماہ سے جاری بندش نے علاقائی تجارت، مقامی معیشت اور عام عوام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے محرم الحرام کے احترام میں 30 جون کو دی گئی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال کو 10 جولائی تک مؤخر کر دیا ہے، اور اس دوران وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے بارڈر کھولنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔پریس کانفرنس میں قبائلی عمائدین ملک بوز گل، ملک سردار علی اور چیمبر آف کامرس کے صدر سیف الرحمان سمیت دیگر تاجر نمائندگان نے شرکت کی۔ مقررین نے واضح کیا کہ گزشتہ 21 مہینوں سے بلا جواز انگور اڈا بارڈر بند ہے، اور تاحال کسی بھی حکومتی ادارے نے اس کی وجوہات سے عوام کو آگاہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی حکومت کی طرف سے بارڈر کی بندش کا کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ رکاوٹ پاکستان کی طرف سے ہے، جو کہ سراسر ناقابلِ فہم اور ناقابلِ قبول ہے۔تاجر رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ انگور اڈا بارڈر کی بندش کی وجہ سے نہ صرف تاجر برادری کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے بلکہ حکومت کو بھی محصولات کی مد میں بھاری مالی خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ کئی چھوٹے کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور ہزاروں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ملک بوز گل نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت اور عسکری قیادت سے اپیل کرتے ہیں کہ خدا راہ، اس بارڈر کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ ہم دوبارہ اپنی معاشی سرگرمیاں بحال کر سکیں۔تاجر رہنماؤں نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ اگر 10 جولائی تک پاک افغان انگور اڈا بارڈر کھولا نہ گیا تو جنوبی وزیرستان لوئر میں مکمل پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی، جو اس وقت تک جاری رہے گی جب تک بارڈر کھولنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہو جائے۔نیوز کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ ہم نے امن و امان کی صورتحال اور مذہبی تقدس کے پیشِ نظر اپنی ہڑتال مؤخر کی ہے، لیکن اگر ہمارے جائز مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو احتجاج ناگزیر ہوگا۔تاجر برادری نے اعلان کیا کہ مجوزہ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کے دوران صرف ہسپتالوں کو مریضوں کے لیے کھلا رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ میوہ جات اور سبزیوں کی منڈیوں کی ترسیل کو بھی جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی تاکہ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔پریس کانفرنس کے شرکاء نے وفاقی حکومت، سیکیورٹی اداروں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے کے زمینی حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر انگور اڈا بارڈر کو تجارت کے لیے کھولیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر کے اسے دیگر شہروں تک پھیلایا جا سکتا ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے