سوات (نمائندہ مانند )سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے علاقے چالیار میں مدرسے کے اندر مبینہ تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 13 سالہ طالبعلم فرحان ایاز کے قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ کیس میں روپوش مرکزی ملزمان قاری محمد عمر اور اس کا بیٹا احسان اللہ کو سوات پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ڈی پی او سوات محمد عمر خان کے مطابق، دونوں ملزمان واقعے کے بعد فرار ہو کر روپوش ہو گئے تھے، جنہیں پولیس نے مختلف مقامات پر کارروائی کے بعد گرفتار کر کے سوات منتقل کیا۔ بعد ازاں انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ خوازہ خیلہ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے دونوں ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔قبل ازیں اسی مقدمے میں قتل میں ملوث مزید دو افراد اور مدرسے کے آٹھ اساتذہ کودیگر طلباء پر تشدد کیس میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان تمام ملزمان کو جسمانی ریمانڈ کی تکمیل کے بعد سوات جیل منتقل کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ 21 جولائی کو پیش آیا تھا، جب مدرسے کے اندر 13 سالہ فرحان ایاز پر مبینہ طور پر اساتذہ نے شدید تشدد کیا، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہو گیا۔ واقعے نے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی، جس کے بعد متاثرہ خاندان، علاقہ مکینوں اور سول سوسائٹی نے بھرپور احتجاج کیا۔فرحان ایاز کے اہلِ خانہ نے مرکزی ملزمان کی گرفتاری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ذمہ داروں کو قرار واقعی اور عبرتناک سزا دی جائے، تاکہ آئندہ کسی معصوم جان کے ساتھ ایسا سانحہ پیش نہ آئے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے