شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ سے تعلق رکھنے والے کان کن مزدوروں کی ہلاکتوں کا سلسلہ بدستور جاری، گزشتہ چھ دنوں میں کوئلہ کے کانوں میں تیسراحادثہ۔5 محنت کش مزدورجان بحق جبکہ3زخمی۔بلوچستان میں منگل کو ہرنائی دکئی ے کول مائن میں زہریلی گیس \ساندھاپھٹنے سے دو کان کن مزدورجان بحق جبکہ تین مزدور شدید زخمی ہو گئے۔جان بحق ہونے والے مزدور باپ بیٹا تھے میت بلوچستان کے علاقے ہرنائی دکئی سے شانگلہ کے لیے روانہ کر دی گئی۔ بلوچستان کے علاقے دکئی ہرنائی کوئلے کے مائن میں زہریلی گیس پھٹنے سے ضلع شانگلہ تحصیل الپوری کے 2 کانکن جان بحق جبکہ 3 مزدور شدید زخمی ہوگئے۔زخمیوں کو علاج معالجہ کیلئے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہیں۔جان بحق ہونے والوں میں واجد ولد شیر افضل ساکن میاں کلے بانڈا، شیر افضل ولد دل افزر میاں کلے بانڈا شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں امیر محمد ولد گل رحمان یوسی الپوری باسی، اشرف علی ولد گل رحمان یوسی الپوری باسی، نوراسلاام ولد حکیم خان جوڑغ ڈھیری شامل ہیں۔ زخمی کوئٹہ کے سول ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔اس سے پہلے اتوار کو بھی اور کزئی کے علاقے سر ہ خونہ جنگل مائنز میں شانگلہ کے تین مزدوروں دوران کام گیس پھٹنے سے جان بحق ہوئے تھے جن میں شیررحمان ولدگل زمان سکنہ پیرآباد الپوری،اسلم خان ولدحیاء گل سکنہ کھومایار ڈھیرئی الپوری،رحیم اللہ سکنہ شاہ پور شامل تھے۔ جبکہ گزشتہ ہفتے بھی ایک کانکن منیجر حیدر علی سکنہ شاہ پور ما ئن کے اندر حادثے کا شکار ہو کر جان بحق ہوئے تھے۔شانگلہ سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کیلئے کوئلہ کان میں مزدوری گزشتہ پانچ دہائیوں سے موت کا کنواں ثابت ہو چکا ہے مگر بدقسمتی سے نسل در نسل کول کان سے وابستہ مزدور شانگلہ میں متبادل روزگار نہ ہونے کی وجہ سے رزق حلال کی کمائی کے لیے اس موت کے کنویں کو قبول کرتے ہیں اور ہر ہفتہ یہاں لاشیں آنا اب معمول بن چکا ہے شانگلہ میں نام نہاد تنظیمیں صرف ان مزدوروں کی ناموں پر پریشر گروپ بنا کر اپنے کام نکلواتی ہیں اور مزدور وہی کے وہی بے اسر الاچار اور صرف ٹھیکیدار ولیزہولڈرز کیلئے کمانے کا مشین بن کر اپنی جان کی بازی مائن کے اندر ہی ہار جاتے ہیں جو ایک بڑا المیہ ہے شانگلہ جس کی کل آبا دی کا 65 فیصد سے زائد کا دارومدار کوئلے کی صنعت سے وابستہ ہیں مگر پورے ضلع شانگلہ میں کوئلہ کان مزدوروں کے لیے نہ تو کوئی ہسپتال ہے اور نہ ان کے بچوں کیلئے سکول یا کوئی ٹیکنیکل ایجوکیشن کا بندوبست۔شانگلہ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں کان کن مزدور جو کول مائنز کے اندر مختلف حادثات کا شکار ہو چکے ہیں اب معذور ہیں کہ لیے کوئی بندوبست نہیں اور نہیں ان کی کفالت کے لیے کوئی معقول رقم دی جا رہی ہیں کیونکہ شانگلہ سے تعلق رکھنے والے بیشتر کان کن مزدوروں کا کوئی رجسٹریشن تک نہیں آب جن مزدوروں کا رجسٹریشن ہے ان کو بھی چند ہزار روپے ماہانہ پینشن دی جا رہی ہیں جو انتہائی کم اور رجسٹر ڈمزدور بھی انتہائی کم ہیں۔شانگلہ کے مزدوروں پر سیاست کرنے والے اور اپنی سیاسی پریشر بنانے لوگ اب بے نقاب ہونے چاہیے اور ان کو اس چیزوں سے دور کرنے کے لیے اقدامات کی آشد ضرورت ہیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے