پشاور(مانند نیوز) آل اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹیز فیڈریشن خیبر پختونخوا کے صدر دین محمد خلیل کی زیر صدارت ہیڈ آفس پی ڈی اے میں ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں یوڈا بورڈ کی 30 ستمبر کو ہونے والی گیارہویں میٹنگ میں ملازمین دشمن فیصلوں پر شدید ردعمل دیا گیا۔اجلاس میں صدر دین محمد خلیل، صوبائی جنرل سیکرٹری فیض اللہ خان، عنایت الرحمن، فضل ربی، عارف، فرمان، افتخار خلیل سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ محبوب، ظہور، عمیر اور طارق نے ٹیلی فونک کال کے ذریعے اپنی رائے دی۔فیڈریشن نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا کہ ملازمین کے دو فیصد پلاٹ کوٹہ ختم کرنا اور پیکیج کو نئے فارمولے کے تحت دینا، جس سے ملازمین کو 50 فیصد نقصان پہنچ رہا ہے، کسی صورت قبول نہیں۔ یہ یوڈا بورڈ کا اپنے اختیارات سے تجاوز ہے اور پی یو ڈی بی 1978 رولز، 2002 آرڈیننس اور یوڈا ایکٹ 2020 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔فیڈریشن رہنماؤں نے اعلان کیا کہ ان فیصلوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ ایم ڈی یوڈا آفس کے اختیارات سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کو دیے جائیں کیونکہ موجودہ مالی حالات میں ایم ڈی آفس اتھارٹیز پر بوجھ ہے۔تمام اتھارٹیز میں پی یو ڈی بی کے ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات کیے جائیں تاکہ مالی اور انتظامی کارکردگی بہتر ہو۔یوڈا بورڈ اور اس کی کمیٹیوں میں ملازمین کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وزیر بلدیات و یوڈا بورڈ کے چیئرمین ارشد ایوب اور دس ممبران ایم پی ایز کی موجودگی میں انصاف کے نعرے کے برخلاف ایسے فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگر ملازمین دشمن اقدامات واپس نہ لیے گئے تو فیڈریشن اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے قلم چھوڑ ہڑتال، احتجاج، سروسز کی بندش اور دھرنوں کا راستہ اختیار کرے گی۔