بریکوٹ (مانند نیوز)تحصیل بریکوٹ کے مرکزی بازار میں درجنوں ہوٹلز اور ریسٹورنٹس عوام کی صحت کے ساتھ کھلم کھلا کھلواڑ میں مصروف ہیں۔ غیر معیاری اور مضرِ صحت کھانے، ملاوٹی دودھ و دہی، ناقص گھی اور کیمیکل زدہ تیل کا آزادانہ استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے ۔ بیشتر ہوٹلز میں پھیلی بدبو، گندگی سے بھرے کچن اور صفائی کے فقدان نے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ زرائع کے مطابق باسی خوراک، مردہ مرغیوں کا گوشت، اور فریزر میں مہینوں پرانے کھانے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ہوٹلوں میں استعمال ہونے والے ٹوٹے برتن، گندے تولیے اور ناقابلِ برداشت تعفن زدہ ماحول، انتظامیہ کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ روٹیوں کا کم وزن اور غیر معیاری آٹا مزید ظلم پر ستم ہے۔محکمہ حلال فوڈ، محکمہ صحت اور تحصیل انتظامیہ نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ عوام کو ان منافع خور عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ ذمہ دار ادارے ’کاغذی کاروائی تک محدود ہیں صرف ایک چند ہوٹلوں میں کاروائی کی فوٹو سیشن کروا کر چلتے بنتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ جب عوام طرح طرح کی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو جائیں گی تو کیا تب ضلعی انتظامیہ جاگے گی کمشنر ملاکنڈ اور ڈپٹی کمشنر سوات فوری نوٹس لے کر بریکوٹ بازار میں صفائی، معیارِ خوراک اور عوامی تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں، تاکہ انسانی جانوں سے یہ بے حسی کا کھیل ختم ہو۔