ایران میں کیا ہونے والا ہے؟ جمہور کی آواز ایم سرورصدیقی
( مانند نیوز) ایران میں پرتشددفسادات درجنوں شہروں تک پھیل گئے جس سے حالات مزیدسنگین ہونے کا خدشہ ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ احتجاج ایران کا داخلہ مسئلہ ہے اس میں کسی بیرونی ملک کو مداخلت کی ضرورت نہیں ہے لیکن امریکی صدر کی کھلم کھلا مداخلت انتہائی خوفناک امرہے تاریخ بتاتی ہے کہ غیرمسلم طاقتوں نے ہمیشہ مسلم ممالک کو تختہ ئ مشق بنایاہے شام،عراق،افغانستان،پاکستان اس کی روشن مثالیں ہیں اب ایران میں جوکچھ ہورہاہے یقینا اس کے پس منظرمیں ایران کی ایٹمی ٹیکنالوجی ہے جو عالمی طاقتوں کو برداشت نہیں ہورہی اس لئے رجیم چینج کرنے کے لئے ایران میں فسادات ہورہے ہیں ایرانی انسانی حقوق تنظیم کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں میں اب تک 490 مظاہرین اور 48 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں 10 ہزار 600 سے زائد افراد گرفتار کئے گئے ہیں جب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہاہے کہ وہ کسی عالمی قانون کو نہیں مانتے پوری دنیا میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگی ہے امریکی ایجنسیوں کے ہاتھوں ونزیلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کے اغواء کے بعد گرین لینڈپر ممکنہ امریکی حملے نے عالمی امن کو خطرات لاحق کرکے رکھ دئیے ہیں اسی بناء پر ایرانی صدر سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای نے امریکا، اسرائیل کو فسادات کا ذمے دار قرار د یتے ہوئے کہاہے کہ فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہو گا۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھاکہ غرور میں ڈوبا ایک شخص پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام آزادی کی جانب دیکھ رہے ہیں، ان کی مدد کیلئے تیار ہیں، ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر فوجی حملہ کرتا ہے تو اسرائیل اور امریکی فوجی مراکز ’جائز اہداف‘ تصور کئے جائیں گے، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پرتشدد مظاہروں کے حوالے سے کہا ہے کہ بیرون ملک سے دہشت گردوں کو ایران لایا گیا، امریکا اور اسرائیل ایران میں عدم استحکام کیلئے مظاہرین کو تشدد پر اکسا رہے ہیں،اسرائیلی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے 10 جنوری کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی پر تبادلہ خیال کیا ہے،امریکی مداخلت کے پیش نظر اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور دیگر شہروں میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے،امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ایران میں مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 500سے بڑھ گئی ہیں،ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ 114سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہوچکے ہیں۔اسرائیلی ویب سائٹ دی یروشلم پوسٹ نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل اس امکان کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے کہ امریکا ایران میں حکومت مخالف تحریک کی حمایت کیلئے مداخلت کر سکتا ہے۔ ایران کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب تک پرتشدد مظاہروں میں 114سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہوچکے ہیں ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ پرتشدد مظاہروں کے 200سے زائد منتظمین کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق گرفتار افراد سے اسلحہ وگولہ بارود برآمد ہوا ہے،ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے کہاہے کہ ملک میں بدامنی کم ہو رہی ہے اور تخریب کاری میں کمی آ رہی ہے ایرانی میڈیا کو انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’امریکا، اسرائیل لوگوں کو ہدایات دے رہے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں جاؤ تخریب کاری کرو، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ایران پر حملہ کیادوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے، ملاقات کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ایران کے خلاف بہت طاقتور آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔یرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ دہشت گردوں نے مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا۔ صورتحال اب مکمل کنٹرول میں ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں ایران میں پْرامن مظاہرے پْرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگئے، دو ہفتوں میں مظاہروں کے دوران 350 مساجد کو آگ لگائی گئی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ٹرمپ کی مداخلت کی بات کے بعد احتجاج خونریز ہوگئے تاکہ مداخلت کا بہانہ پیدا ہوسکے۔، مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ کسی غیرملکی کو ایران میں انتشار کے بیج بونے کی اجازت نہیں دیں گے ہمارے نوجوانوں، بچوں کو قتل کیا، ملک کے اندر اور باہر گروہوں کو دہشت گردی کی تربیت دی، جو مساجد کو آگ لگاتے ہیں اور قتل و غارت کرتے ہیں۔ اسی تناظرمیں ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ کسی غیر ملکی کو قوم میں انتشار کے بیج بونے کی اجازت نہیں دیں گے مسعود پزشکیان نے عوام سے فسادیوں اور دہشت گردوں سے دور رہنے اور ملکی مسائل کے حل کیلئے متحد ہونے کی درخواست کی اور معاشی مسائل کو ہر ممکن طریقے سے حل کرنے کے عزم کا اظہار کہا۔ایرانی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’کچھ لوگ جو ’عوام میں سے نہیں ہیں اور اس ملک سے تعلق نہیں رکھتے‘ نے لوگوں کو رائفلوں اور مشین گنوں سے قتل کیا۔ انہوں نے کچھ کے سر قلم کئے، کچھ کوآگ لگا دی‘۔ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل ان ’فساد بپا‘ کرنے والوں کو کہہ رہے ہیں کہ آگے بڑھو، ہم تمھارے ساتھ ہیں۔‘مسعود پزشکیان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ محلوں میں جمع ہوں اور ’افراتفری‘ کو روکیں۔ایرانی صدر نے کہا کہامریکا اور اسرائیل ان ’فساد بپا‘ کرنے والوں کو کہہ رہے ہیں کہ آگے بڑھو، ہم تمہارے ساتھ ہیں،حکومت بحران حل کرنے کیلئے کام کر رہی ہے، معیشت میں موجود ’ساختی عدم توازن‘ درست کیا جائے گا اور ایران موجودہ بحران پر قابو پا لے گا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ’ہدایت یافتہ‘ اور ’تربیت یافتہ‘ افراد عوام پر گولیاں چلا رہے ہیں اور گھروں و املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔دریں اثنا، ایران میں انٹرنیٹ کی مکمل بندش جاری ہے اور معلومات کی ترسیل اور تصدیق کے امکانات کو کم سے کم کر دیا گیا ہے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ زرِمبادلہ کے متعدد نرخوں نے بدعنوانی کو فروغ دیا اور طاقتور حلقوں کو عوام کی قیمت پر فائدہ پہنچایا۔ ’ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی احتجاج جائز ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ایران میں احتجاج، پرتشدد فسادات اور بیرونی مداخلت یقینا اس کے پس منظرمیں ایران کی ایٹمی ٹیکنالوجی ہے جو عالمی طاقتوں کو برداشت نہیں ہورہی اس لئے رجیم چینج کرنے کے لئے ایران میں فسادات ہورہے ہیں تاکہ اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومت قائم کی جاسکے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے نظریات و خواہش عیاں ہوگئی ہیں اس لئے مسلم حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینا چاہیے اسلام دشمن طاقتیں مسلم حکمرانوں کو ایک دوسرے سے بدظن کرکے تنہا تنہا شکار کرنے کے درپے ہیں اس لئے اسلامی سربراہ کانفرنس اورOICکواپنا کرداراداکرناہوگا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے