شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ کے نوجوانوں میں امیدکی نئی کرن پیداہوگئی۔شوکت یوسفزئی نے آئی جی پولیس سے پولیس بھرتیوں کے لیے عمر کی حد 25 سال سے بڑھا کر 28 سال کرنے کی باضابطہ درخواست کی۔پولیس میں سینکڑوں اپلائی کرنے والے نوجوانوں کی امید پیداہوگئی۔گزشتہ روزسابق صوبائی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے سنٹرل پولیس آفس پشاور میں انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا سے ملاقات کی، جس میں انھوں نے ضلع شانگلہ میں پولیس بھرتیوں کے لیے عمر کی حد 25 سال سے بڑھا کر 28 سال کرنے کی باضابطہ درخواست کی۔ملاقات کے دوران شوکت یوسف زئی نے انسپکٹر جنرل پولیس کو ضلع شانگلہ کی سماجی و معاشی صورتحال سے تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ شانگلہ خیبر پختونخوا کے پسماندہ ترین اضلاع میں شامل ہیں، جہاں روزگار کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد باعزت روزگار نہ ملنے کے باعث دیگر شہروں میں،خصوصاً کوئلے کی کانوں میں جان جوکھوں میں ڈال کر مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ روزگار کے فقدان کی وجہ سے بہت سے نوجوانوں کی عمریں 25 سال سے تجاوز کر چکی ہیں، جس کے باعث وہ پولیس بھرتیوں کے موجودہ معیار کے مطابق نااہل قرار پاتے ہیں، حالانکہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر اس ذمہ داری کے لیے مکمل اہل ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ شانگلہ جیسے پسماندہ ضلع کے نوجوانوں کو خصوصی رعایت دیتے ہوئے عمر کی حد میں تین سال کا اضافہ کیا جائے تاکہ وہ پولیس محکمے میں شامل ہو کر صوبے اور ملک کے لیے اپنی خدمات سرانجام دے سکیں۔انھوں نے مزید کہا کہ مقامی نوجوان علاقے کے جغرافیہ، امن و امان کی صورتحال اور زمینی حقائق سے بہتر طور پر واقف ہوتے ہیں، اس لیے ان کی پولیس میں شمولیت نہ صرف بیروزگاری کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کو بھی فروغ دے گی۔اس موقع پر انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخواہ نے شوکت یوسف زئی کی درخواست کوسنجیدگی سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کا قانونی اور قواعد و ضوابط کے تحت جائزہ لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر قانون میں عمر کی حد میں اضافے کی گنجائش موجود ہوئی تو اس پر ضرور غور کیا جائے گا اور ممکنہ حد تک عملی اقدام اٹھایا جائے گا۔ملاقات کے اختتام پر شوکت یوسف زئی نے امید ظاہر کی کہ پولیس قیادت اور حکومت شانگلہ کے نوجوانوں کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مثبت فیصلہ کرے گی، جس سے نہ صرف نوجوانوں کو روزگار ملے گا بلکہ صوبے میں امن و امان کے قیام میں بھی بہتری آئے گی۔