شانگلہ(مانند نیوز)ضلع شانگلہ میں شدید برفباری کے بعد دوسرے روز بھی معمولاتِ زندگی بحال نہ ہو سکے، موسم صاف ہوتے ہی برف جم گئی جس سے مشکلات مزیدبڑھ گئے۔ گزشتہ روز ہونے والی طوفانی اور غیر معمولی برفباری کے اثرات بدستور پوری وادی میں موجود ہیں،شدید برفباری کے باعث شانگلہ کو سوات، کوہستان اور دیگر اضلاع سے ملانے والی تمام مرکزی اور رابطہ سڑکیں دوسرے روز بھی ٹریفک کے لیے مکمل طورپربحال نہ ہوسکی۔ کئی مقامات پر کئی فٹ برف جمع ہونے کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔سڑکوں کی بحالی کے لیے کام تو جاری ہے، تاہم بھاری مشینری کی عدم دستیابی اور شدید سست روی نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بروقت سنو کٹر اور ہیوی مشینری فراہم نہ کیے جانے کے باعث بحالی کا عمل انتہائی سست ہیں،برفباری کے بعد ضلع بھر میں بجلی کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ شدید برفباری کے باعث شانگلہ کے مختلف مقامات پر بجلی کے کھمبے گر گئے، جس کے نتیجے میں پوری وادی گزشتہ 48 گھنٹوں سے مکمل اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ بجلی کی بحالی کے لیے کوئی مؤثر اور عملی کام شروع نہیں کیا جا سکا۔انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی بدستور متاثر ہے، سگنلز وقفے وقفے سے ڈراپ ہو رہے ہیں، جس سے عوام اور ہنگامی اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہیں۔شدید موسمی صورتحال کی ایک اور تشویشناک جہت یہ ہے کہ شانگلہ کے گرم اور میدانی علاقوں جن بشام سے دندائی تک سمیت دیگر علاقے شامل ہیں میں پندرہ سال بعد برفباری ریکارڈ کی گئی ہیں۔ غیر معمولی سردی، شدید ٹھنڈ اور معمول سے ہٹ کر برفباری کے باعث میدانی علاقوں میں بھی نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہو چکا ہے، جہاں لوگ ایسی صورتحال کے لیے نہ تو ذہنی اور نہ ہی انتظامی طور پر تیار تھے۔بالائی اور پہاڑی علاقوں میں دوسرے روز برف صفائی کا عمل شروع کیا گیا ہے، تاہم مقامی آبادی نے صفائی کے کام کی رفتار اور مشینری کی کمی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر بجلی کی بحالی، سڑکوں کی صفائی اور ریلیف اقدامات کیے جائیں تاکہ صورتحال مزید سنگین ہونے سے بچائی جا سکے۔