جنوبی وزیرستان لوئر میں پہلی بار ڈی آر سی آفس کا قیام، پولیس لائن وانا میں باقاعدہ افتتاح
ڈی آر سی وانا میں خدمات رضاکارانہ، عوام سے کسی قسم کی فیس نہیں لی جائے گی، ڈپٹی کمشنر مسرت زمان، ڈی پی او محمد طاہر شاہ وزیر
جنوبی وزیرستان لوئر (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر میں عوام کو فوری اور منصفانہ انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے پولیس لائن وانا میں پہلی بار منگل کے روز ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل (ڈی آر سی) آفس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ ڈی آر سی آفس کے قیام کو علاقے میں تنازعات کے پرامن حل اور انصاف کی فراہمی کی جانب ایک خوش آئند قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈی آر سی آفس کا باقاعدہ افتتاح ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر مسرت زمان اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد طاہر شاہ وزیر نے مشترکہ طور پر کیا۔ افتتاحی تقریب میں ڈی ایس پی تحصیل وانا سرکل اصغر علی شاہ، احمد زائی وزیر اور دوتانی قبیلے کے قبائلی عمائدین، دیگر معززینِ علاقہ، پولیس افسران اور صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کے دوران قبائلی عمائدین نے 2018 میں سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد پہلی بار ڈی آر سی آفس کے قیام کو ایک تاریخی اور مثبت اقدام قرار دیا۔ عمائدین کا کہنا تھا کہ ڈی آر سی کے ذریعے مقامی سطح پر تنازعات کے حل سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ عدالتوں پر بوجھ بھی کم ہوگا اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر مسرت زمان نے کہا کہ ڈی آر سی آفس کا قیام عوام کو سستا، فوری اور قابلِ اعتماد انصاف فراہم کرنے کی جانب ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے کہ عوامی مسائل کو مقامی سطح پر حل کیا جائے تاکہ لوگوں کو طویل عدالتی کارروائیوں اور اخراجات سے نجات مل سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈی آر سی مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق کام کرے گی، جس میں قبائلی روایات اور جدید قانونی تقاضوں کا توازن رکھا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ قبائلی عمائدین کے ساتھ مل کر علاقے میں امن و امان کے قیام اور سماجی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی عوامی فلاح و بہبود سے متعلق مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد طاہر شاہ وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈی آر سی آفس پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد سازی کا ایک مضبوط ذریعہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معمولی نوعیت کے تنازعات کو مقامی سطح پر حل کرنے سے نہ صرف پولیس پر دباؤ کم ہوگا بلکہ عوام کو بروقت انصاف بھی میسر آئے گا۔ ڈی پی او نے کہا کہ ڈی آر سی میں شامل قبائلی عمائدین اور معززینِ علاقہ کے فیصلے باہمی رضامندی اور انصاف کے اصولوں پر مبنی ہوں گے۔
یقیناً! ذیل میں جملے کو تین مزید سطروں کے اضافے کے ساتھ، رواں اور مثبت اخباری انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے واضح کیا کہ ڈی آر سی میں شامل تمام افراد رضاکارانہ طور پر خدمات سرانجام دیں گے، جہاں عوام سے کسی بھی قسم کی فیس یا معاوضہ وصول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ڈی آر سی کا بنیادی مقصد عوام کو فوری، شفاف اور منصفانہ انصاف کی فراہمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی عمائدین اور معززینِ علاقہ کے تعاون سے سماجی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کو فروغ دیا جائے گا۔
ڈی پی او محمد طاہر شاہ وزیر نے مزید کہا کہ جنوبی وزیرستان لوئر میں امن و امان کے قیام کے لیے پولیس تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور عوام کے تعاون سے جرائم کی روک تھام اور سماجی مسائل کے حل میں نمایاں بہتری لائی جائے گی۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے ڈی آر سی آفس کے قیام کو علاقے کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے تنازعات کے حل میں تیزی آئے گی اور عوام کا اعتماد ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر مزید مضبوط ہوگا