اسلام آباد (مانند نیوز)17 فروری کو ایک نایاب سورج گرہن رونما ہوگا جسے عام طور پر ’رِنگ آف فائر‘ کہا جاتا ہے، یہ فلکیاتی مظہر محدود علاقوں میں دیکھا جا سکے گا جبکہ مکمل ’رِنگ آف فائر‘ کا منظر صرف انٹارکٹیکا میں نظر آئے گا۔

یہ سورج گرہن اس وقت بنتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے لیکن اپنے نسبتاً فاصلے کی وجہ سے سورج کو مکمل طور پر نہیں ڈھانپ پاتا، سورج کا بیرونی حصہ ایک روشن دائرے کی شکل میں نمایاں رہتا ہے جو آگ کے حلقے جیسا منظر پیش کرتا ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق اس گرہن کے دوران چاند سورج کا تقریباً 96 فیصد حصہ ڈھانپ لے گا۔

ماہرین فلکیات کے مطابق ’رِنگ آف فائر‘ کا منظر تقریباً 2 منٹ 20 سیکنڈ تک برقرار رہے گا، جبکہ گرہن کا مجموعی دورانیہ تقریباً 271 منٹ ہوگا۔

2027 میں صدی کا طویل ترین سورج گرہن ہوگا

اگرچہ مکمل گرہن صرف انٹارکٹیکا میں دیکھا جا سکے گا، تاہم جزوی سورج گرہن افریقا، جنوبی امریکا، بحرالکاہل، بحرِ ہند اور بحرِ اوقیانوس کے بعض حصوں میں بھی دیکھا جا سکے گا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو براہِ راست آنکھ سے دیکھنا خطرناک ہو سکتا ہے اور اس سے بینائی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، گرہن دیکھنے کے لیے خصوصی ایکلپس چشمے یا مناسب سولر فلٹر سے لیس دوربین استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، عام دھوپ کے چشمے اس مقصد کے لیے مؤثر نہیں ہوتے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے