شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ ایٹا ٹیسٹ پاس کرنے والے 400 سے زائد نوجوان جبکہ خالی پولیس آسامیاں صرف 201 ہیں۔ شانگلہ کے جوانوں کی امیدیں خطرے میں ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، آئی جی پی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید اور اعلیٰ حکام سے نشستیں بڑھانے کا مطالبہ کیاگیا۔ضلع شانگلہ کے سینکڑوں نوجوانوں نے پولیس میں بھرتی کے لیے منعقدہ ایٹا ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کر کے ایک نئی امید پیدا کی ہیں تاہم محدود آسامیوں کے باعث درجنوں نوجوانوں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہیں۔ پولیس میں بھرتی کی صرف 201 آسامیاں مختص کی گئی ہیں جبکہ 400 سے زائد نوجوان ایٹا ٹیسٹ میں کامیاب قرار پائے ہیں۔ کامیاب امیدواروں میں زیادہ تر کا تعلق پسماندہ اور دور دراز علاقوں سے ہیں جہاں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ نوجوانوں نے دن رات محنت کر کے یہ مرحلہ عبور کیامگر اب نشستوں کی کمی ان کی محنت پر پانی پھیرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔مقامی سماجی حلقوں اور والدین کے مطابق اگر اس مرحلے پر نوجوانوں کو بھرتی کا موقع نہ ملا تو آئندہ سال تک کئی امیدوار اوور ایج ہو جائیں گے جس سے برسوں کی محنت ضائع ہونے کا خدشہ ہیں۔ والدین کا کہنا ہیں کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے اس دور میں یہ نوکریاں نہ صرف نوجوانوں بلکہ پورے ضلع کے لیے امید کی کرن ہیں۔ ضلع شانگلہ ایک دور افتادہ اور پسماندہ علاقہ ہے جہاں آبادی کا تقریباً 65 فیصد روزگار کیلئے کوئلے کی صنعت پر انحصار کرتا ہیں۔ اس صنعت میں آئے روز حادثات کے باعث قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے اور تشویشناک امر یہ ہے کہ ان حادثات میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہیں جو ایک بڑا سماجی المیہ ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق شانگلہ میں ٹریڈ، صنعتی یونٹس اور فیکٹریوں کا نہ ہونا بنیادی وجہ ہیں جس کے باعث عوام کا دارومدار یا تو کوئلے کی کان کنی پر ہے یا پھر سرکاری محکموں میں محدود ملازمتوں پر۔سول سوسائٹی اور عوامی نمائندوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور آئی جی پی خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہیں کہ اس غیر معمولی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے نشستوں میں اضافہ کیا جائے یا خصوصی پالیسی کے تحت زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ پاس نوجوانوں کو پولیس فورس میں بھرتی کیا جائے۔ ان کا کہنا ہیں کہ یہ صرف چند نوکریوں کا معاملہ نہیں بلکہ ضلع شانگلہ کے مستقبل اور نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کا سوال ہیں۔مقامی حلقوں نے متنبہ کیا ہیں کہ اگر قابل اور محنتی نوجوانوں کو بروقت مواقع فراہم نہ کیے گئے تو مایوسی میں اضافہ ہوگا جو سماجی مسائل کو جنم دے سکتا ہیں۔ عوامی مطالبہ ہیں کہ میرٹ کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو پولیس فورس کا حصہ بنایا جائے تاکہ علاقے میں روزگار کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہو۔ اس موقع پر ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی سے بھی اپیل کی گئی ہیں کہ وہ ایٹا ٹیسٹ پاس کرنے والے نوجوانوں کے لیے اپنے اپنے فورمز پر مؤثر کردار ادا کریں تاکہ محنت کرنے والے تمام نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے