شانگلہ(مانند نیوز)کم تنخواہ دار کلاس فور ملازمین سے بی آئی ایس پی کی مد میں کٹوتی، غریب طبقے پر مہنگائی کا نیا وار ثابت ہو سکتا ہیں۔ کم تنخواہ دار کلاس فور ملازمین کی محدود آمدن سے بے نظیر انکم سپو رٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی مد میں کٹوتی کیے جانے کے اقدام نے غریب اور نادار ملازمین کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ پہلے ہی قلیل تنخواہوں پر گزر بسر کرنے والے نچلے درجے کے ملازمین اس غیر منصفانہ فیصلے کے باعث سخت مالی دباؤ میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ وہ ملازمین جو معمولی اجرت پر اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے پر مجبور ہیں، مہنگائی کی موجودہ لہر میں شدید معاشی ابتری کا شکار ہیں۔ ان حالات میں اگر کسی ملازم کی اہلیہ کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقم ملی ہو تو اس بنیاد پر شوہر کی تنخواہ سے کٹوتی کرنا نہ صرف غیر انسانی عمل ہے بلکہ غریب دشمن پالیسی کا کھلا ثبوت بھی ہے۔نچلے درجے کے ملازمین کی تنخواہیں پہلے ہی اتنی کم ہیں کہ بچوں کی تعلیم، دو وقت کی روٹی، علاج معالجہ اور روزمرہ ضروریات پوری کرنا محال ہو چکا ہے۔ ایسے میں بی آئی ایس پی کے نام پر کی جانے والی کٹوتیاں ان کے لیے معاشی موت کے مترادف ہیں۔ یہ مزدور طبقہ نہ تو بے نظیر پروگرام کی رقوم دوبارہ جمع کروانے کا متحمل ہے اور نہ ہی ان کی آمدن اس قابل ہے کہ اس سے مزید کٹوتی برداشت کی جا سکے۔متاثرہ ملازمین نے اعلیٰ حکام سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ نچلے درجے کے ملازمین کے ساتھ خصوصی رعایت برتی جائے، ان کی تنخواہوں سے بی آئی ایس پی کی مد میں کی جانے والی تمام کٹوتیاں فوری طور پر بند کی جائیں اور جن ملازمین کی اہلیہ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے امدادی رقم حاصل کی ہے، ان سے وصولی کو فی الفور معاف کیا جائے۔ملازمین کا کہنا ہیں کہ مہنگائی کے اس دور میں کمزور اور محنت کش طبقے کو سہارا دینے کے بجائے ان پر مزید مالی بوجھ ڈالنا ظلم ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی یہ اخلاقی و سماجی ذمہ داری بنتی ہیں کہ وہ غریب ملازمین کے ساتھ انصاف کریں اور انہیں معاشی استحصال سے بچائیں، تاکہ نچلے طبقے کے یہ سرکاری ملازمین باعزت طریقے سے اپنے بچوں کا مستقبل سنوار سکیں۔کٹوتی ان ملازمین سے کی جائیں جواستطاعت رکھتے ہو نہ کہ وہ ملازمین جن کا پہلے سے ہی گزارہ مشکل ہیں۔اگرکٹوتی کرنی ہی ہیں تووہ گریڈنوسے اوپرسے ملازمین سے کی جائیں کی تنخواہیں نچلی ملازمین سے زیادہ ہیں۔عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہاہیں کہ جو بڑے کیٹگری میں آتے ہیں ان سے نہ صرف کٹوتی کی جائیں بلکہ ان سے لی جانے والی قسطوں کی ڈبل لی جائیں تاکہ ان مستحقین کا حق دوبارہ نہ ماراجائیں۔۔