شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ میں بے نظیر نشونما پروگرام کے فسیلیٹیشن سنٹرمیں سنگین بدعنوانی کے الزامات، ضلع شانگلہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر الپوری میں واقع بی آئی ایس پی نشونما پروگرام کے فسیلیٹیشن سنٹر پر تعینات عملے کے خلاف سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ مقامی خواتین کے مطابق یہ سنٹر غیرسرکاری تنظیم سریڈ کے تحت قائم کیا گیا ہے جہاں غریب اور مستحق خواتین کو غذائیت اور صحت سے متعلق سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاہم عملہ مبینہ طور پر ان سہولیات کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہیں۔ سوشل میڈیاپرپوسٹ وائرل کہ سنٹر میں تعینات خاتون اہلکار غریب خواتین سے اشیائے خورونوش زبردستی منگواتی ہیں، جن میں دیسی گھی، انڈے، دہی اور شہد شامل ہیں۔ ان خواتین کو دھمکی دی جاتی ہیں کہ اگر وہ یہ اشیاء فراہم نہ کریں تو ان کی چاکلیٹس اور نقد امداد بند کر دی جائیں گی۔ مزید الزامات کے مطابق حاملہ خواتین کو غیر ضروری طور پر نجی طور پر الٹراساؤنڈ کروانے پر مجبور کیا جاتا ہیں۔جس سے نہ صرف غریب خواتین کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ مبینہ طور پر کمیشن بھی وصول کیا جاتا ہے۔ متاثرہ خواتین نے بتایا کہ اگر وہ الٹراساؤنڈ نہ کروائیں تو انھیں نشونما پروگرام کی سہولیات بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔شکایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو چاکلیٹس اور دیگر اشیاء خواتین کو دی جاتی ہیں انہیں بعد ازاں سنٹر سے باہر لے جا کر ایک دکان پر بیچا جاتا ہیں۔ مقامی دکاندار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سنٹر سے لے جائی گئی اشیاء وہاں فروخت کی جاتی ہیں۔ جن خواتین نے گفٹس یا نقدی دینے سے انکار کیا، ان کے اکاؤنٹس یا ادائیگیاں بلاک کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ بعض متاثرہ خواتین کے مطابق اہلکار اپنے شوہر کے پٹواری ہونے کا حوالہ دے کر اثرورسوخ استعمال کرنے کی بات بھی کرتی ہیں۔تحصیل الپوری کی متعدد مستحق خواتین کا کہنا ہیں کہ وہ نشونما سنٹر جانے سے پہلے قرض لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں کیونکہ اگرگفٹس یا اضافی اخراجات پورے نہ کیے جائیں تو انہیں سہولیات سے محروم کر دیا جاتا ہیں۔ مقامی سطح پر گفٹس اور اشیائے خورونوش کی خریداری کے حسابات اور تصاویر بھی موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہیں۔علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ این جی او سے مطالبہ کیا ہیں کہ فوری طور پر غیر جانبدارانہ انکوائری کر کے ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے،متاثرہ خواتین کو تحفظ فراہم کیا جائے اور سنٹر کا انتظام بہتر عملے کے سپرد کیا جائے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہیں کہ مذکورہ اہلکار کو فوری طور پر اس عہدے سے ہٹا یا جائے تاکہ غریب خواتین کو مزید ہراسانی اور مالی استحصال سے بچایا جا سکے۔سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر اس معاملے پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہیں۔ شہریوں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہیں کہ اگر فلاحی پروگراموں میں بدعنوانی جاری رہی تو مستحقین کا اعتماد مجروح ہوگا اور حکومتی سکیموں کا مقصد باقی نہیں رہیگا۔ عوام نے مطالبہ کیا ہیں کہ ایسے کیسز میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے، ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور نشونما پروگرام کی نگرانی کے نظام کو مزید شفاف بنایا جائے تاکہ حقیقی مستحقین تک بلا رکاوٹ امداد پہنچ سکے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے