سخاکوٹ(نامہ نگار) ایکشن کمیٹی تحصیل درگئی کے صدرالحاج محمد ایصال خان،جنرل سیکرٹری حاجی غلام حسن خان،رضوان اللہ مہمند،میاں مشتاق احمد، وحید مراد خان، رشید احمدقاضی، حاضرمحمدسالاراوردیگرنیاذلان ہوٹل درگئی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ الحمداللہ تمام سیاسی،مذہبی اورسماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے مشران علاقہ کی درگئی ہسپتال پرائیوٹائزیشن کیخلاف موثرآوازاورباہمی کوششیں رنگ لے آئی اورصوبائی حکومت نے درگئی ہسپتال کو آووٹ سورس لسٹ سے نکال دیاہے جس پرضلع ملاکنڈاورتحصیل درگئی کے عوام کومبارکبادپیش کرتے ہیں اورمقتدرجماعت پی ٹی آئی کے علاوہ تمام سیاسی،مذہبی اورسماجی حلقوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،انہوں نے کہاکہ اب ہمارامشترکہ مطالبہ ہے کہ درگئی ہسپتال کیلئے مستقل اوربااختیارایم ایس کاانتظام کیاجائے جس کیلئے کمیٹی مشران نے صوبائی حکومت اورمحکمہ صحت کے افسران بالاکوبارہاتحریری طورپربھی آگاہ کیاہے،کیونکہ درگئی ہسپتال میں ینگ ڈاکٹرز،پیرامیڈکس سٹاف اورسہولیات کی کمی اپنی جگہ لیکن ان تمام موجود سٹاف سے کام لینے کیلئے ذمہ داراورمجازاتھارٹی کی اشدضرورت ہے اسیلئے فی الفوردرگئی ہسپتال کیلئے مستقل اوربااختیارایم ایس مقررکی جائے بصورت دیگرعیدالفطرکے بعدہسپتال کے سامنے دھرنادینے پرمجبورہونگے۔مزیدانہوں نے کہاکہ امسال محکمہ ایری گیشن ملاکنڈ کے زیرنگرانی بھل صفائی مہم مکمل طورپرناکام ہوچکی ہے اور بھل صفائی کے بجائے یہ مہم نہروں کی بھرائی میں تبدیل ہوچکاہے جہاں پرپورے ضلع ملاکنڈاوربالخصوص تحصیل درگئی میں کہیں پربھی نہروں کی صفائی اورضروری مرمت کاکام نظرنہیں آئی اسیلئے پرزورمطالبہ ہے کہ اس کیلئے محکمہ انہارصوبائی حکومت سے جاری کردہ سالانہ گرانٹ کی انکوائری کی جائے اوراس میں خوردبردکرنیوالے افسران اوراہلکاران کیخلاف تادیبی کاروائیاں کی جائے،جبکہ دوسری جانب صوبائی مقتدرجماعت کو رمضان پیکیج کااختیاراوراس میں اقرباپروری کابازارگرم ہے جہاں پرغربت کی چکی میں پیسنے والوں کے بجائے اکثریتی پارٹی ورکرزکونوازاجارہاہے جبکہ علاقے کے کسی غریب اور لاچار خاندانوں کے نام اس رمضان پیکیج میں شامل نہیں جبکہ اس کیلئے مختص کردہ فنڈزعوام کے ٹیکسوں سے فراہم کردہ ہے جس پرصرف اورصرف غریب اور لاچارگھرانوں کاحق اولین ہے لیکن اس میں سیاسی مداخلت نے کرپشن اوراقرباپروری کے ریکارڈتھوڑدئے اورسارارمضان پیکیج ایم این اے اورایم پی اے کے چہیتوں میں بندربانٹ اورپسندوناپسندکے بنیادپرکیاگیاجوکہ قرین انصاف نہیں،فی الفوراس کی شفاف انکوائری کی جائے اوراسکااختیارسیاسی مقتدرجماعت کے بجائے مقامی انتظامیہ اورسماجی حلقوں کے سپردکی جائے۔