اسلام آباد (مانند نیوز)آبنائے ہرمز میں ایک نیا حساس سمندری راستہ سامنے آیا ہے، جس کے لیے جہازوں کو ایرانی حکام کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہو گی۔

عالمی خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق یہ غیر رسمی میرین ٹریفک کنٹرول نظام کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی ٹینکرز نے ایرانی ساحل کے قریب اس محفوظ راستے سے گزر کر اسے اہم علامتی حیثیت دی ہے، نئے راستے کی اہمیت جزیرہ لارک اور قشم جزیرے کے درمیان واضح ہو گئی ہے، جہاں سے گزرنا ہر جہاز کے لیے لازمی ہو جائے گا۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے سپلائی چین متاثر، خلیجی درآمد کنندگان کی متبادل راستوں کے لئے دوڑ

اس راستے سے گزرنے کے لیے تہران سے سیاسی گرین سگنل کی ضرورت ہو گی، تاکہ جہاز محفوظ طریقے سے راستہ طے کر سکیں۔

بین الاقوامی بیمہ کمپنیاں اور بینک اس نئے نظام اور بڑھتے خطرات سے پریشان ہیں، کیونکہ ایرانی منظوری کے بغیر جہازوں کی نقل و حمل ممکن نہیں۔

مزید برآں بھارت، ترکی اور دیگر کئی ممالک نے ایران سے محفوظ راہداری کی درخواستیں بھی کر دی ہیں، تاکہ خطے میں بحری نقل و حمل کے خطرات کم کیے جا سکیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے