سے محفوظ محسوس کرتے ہیں، تو وہ قومی ترقی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز گورنر ہاوس پشاور میں ”آئینِ پاکستان میں مذہبی آزادی” کے عنوان پر منعقدہ کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا. کانفرنس میں پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے صدر کی حیثیت سے شرکت کی جبکہ اقلیتی رکن قومی اسمبلی جیمز اقبال، چیئرمین امپلیمنٹیشن مائنارٹی رائٹس فورم سموئیل پیارا، صدر بشپ چرچ آف پاکستان آرچ بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل، فیڈرل شریعت کورٹ کے جج جسٹس سید محمد انور، چیف خطیب مولانا طیب قریشی، اراکین پارلیمنٹ، مذہبی رہنماؤں، اقلیتی برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سمیوئیل پیارا نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کانفرنس کے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور کانفرنس کے اغراض و مقاصد سے شرکاء کو آگاہ کیا. انہوں نے ہر طبقہ فکر کیلئے گورنر ہاوس کے دروازے کھلے رکھنے اور گورنر ہاوس میں اہم معاملات پر کانفرنسز اور سیمینار کے انعقاد پر گورنر کو خراج تحسین پیش کیا۔ کانفرنس سے پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز، صدر بشپ چرچ آف پاکستان آرچ بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل، فیڈرل شریعت کورٹ کے جج سید محمد انور، اقلیتی رکن قومی اسمبلی جیمز اقبال، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محی الدین ہاشمی، پنڈٹ راکھیش چند، بشپ آرنسٹ جیکب اور دیگر شرکاء نے بھی خطاب کیا. شرکاء نے خطاب کرتے ہوئے آئین پاکستان میں اقلیتی برادری کو دی گئی مذہبی آزادی اور حقوق کے تحفظ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو جوحقوق اور مذہبی آزادی دی گئی ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی. مقررین نے ائین میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے پر ذوالفقار علی بھٹو شہید اور دیگر رہنماؤں کو بھی خراج تحسین پیش کیا. کانفرنس میں ”انصاف سب کیلئے” کے عنوان سے نظم بھی پیش کی گئی۔گورنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو مذہبی آزادی اور مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور اس میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور ریاست کسی کے عقیدے کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرے گی۔ انہوں نے آرٹیکل 20، 22 اور 25 کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض قانونی شقیں نہیں بلکہ ریاست کا اخلاقی و آئینی عہد ہیں کہ وہ تنوع اور انصاف کو فروغ دے گی۔گورنر نے کہا کہ پاکستان، عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر، اپنے ادارہ جاتی ڈھانچے کو اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے اور آزاد انسانی حقوق کے اداروں کو مضبوط بنانا، مختلف طبقات کی نمائندگی کو یقینی بنانا اور احتساب کو فروغ دینا اس ضمن میں انتہائی اہم اقدامات ہیں۔انہوں نے خیبرپختونخوا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ اپنی ثقافتی اور مذہبی وراثت کے ساتھ ہمیشہ بقائے باہمی کی سرزمین رہا ہے اور یہاں مساجد، گرجا گھر، مندروں اور گوردواروں کے ساتھ ہم آہنگی میں رہنے کی روایت قائم ہے۔ گورنر نے چیئرمین امپلیمنٹیشن مائنارٹی رائٹس فورم سموئیل پیارا کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ اس نوعیت کی کانفرنسز افہام و تفہیم کو فروغ دینے، مسائل کے حل تلاش کرنے اور مختلف طبقات کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے میں نہایت اہم ہیں. انہوں نے کانفرنس کے شرکاء کو یقین دہانی کرائی کہ وہ بلا تفریق ہر شہری کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور اس کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ کانفرنس کے اختتام پر مذہبی آزادی کے فروغ کیلئے موثر کردار ادا کرنیوالے شخصیات کو ایوارڈز سے بھی نوازا گیا جبکہ گورنرخیبرپختونخوا نے مہمانوں کو سوینئر پیش کیے اور سیموئل پیارا نے گورنر کو شیلڈ پیش کی۔ #