اسلام آباد(منانند ریسرچ ڈیسک)پاکستانی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تاریخ کچھ اس اچھی نہیں۔

بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد

1989 میں پہلی بار اپوزیشن کی جانب سے اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی جس میں بے نظیر بھٹو کامیاب ہوئیں اور اپوزیشن صرف 12 ووٹوں سے ناکام ہوگئی۔

237 رکنی ایوان میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے 119 ووٹ درکار تھے۔ تاہم تحریک کے حق میں 107 ووٹ ڈالے گئے اور بے نظیر بھٹو کو 125 ووٹ ملے جب کہ 5 ارکان ایوان سے غیر حاضر رہے۔

شوکت عزیز کے خلاف تحریک عدم اعتماد

دوسری بار اگست 2006 میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی اور اس بار بھی وہ ناکام رہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد، اپوزیشن کو مزید 10 ارکان کی ضرورت

342 رکنی قومی اسمبلی میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرانے کے لیے 172 ووٹ درکار تھے تاہم اپوزیشن صرف 136 ووٹ حاصل کر سکی جب کہ شوکت عزیز کے حق میں 201 ووٹ پڑے۔

عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد

گزشتہ روز پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں تیسری بار اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے جس میں متحدہ اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس تحریک کے لیے ہمارے پاس 172 سے زائد ارکان ہیں۔

یہ بھی پڑھیں تحریک عدم اعتماد کے لیے ہمارے پاس 172 سے زائد ارکان ہیں، اپوزیشن کا دعویٰ

متحدہ اپوزیشن کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے قومی اسمبلی کے 342 میں سے 172 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ اس طرح اپوزیشن کو مزید 10 ارکان کی ضرورت ہوگی۔

آئین کے آرٹیکل 54 کے مطابق اپوزیشن کی منتقلی پر سپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس 14 دن میں بلانے کا پابند ہے۔ تاہم سپیکر کسی بھی وقت یہ اجلاس طلب کر سکتے ہیں۔

اگر اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جیت لی تو یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوگا کہ عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے سبکدوش ہونے والے پہلے وزیراعظم ہوں گے۔ تاہم اپوزیشن 172 ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ سابق وزرائے اعظم کی طرح ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے جس پر مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، اے این پی اور جے یو آئی (ف) کے 86 ارکان کے دستخط ہیں اور جس کی تصدیق بھی ہوگئی ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے