کیف/ماسکو (مانند نیوز ڈیسک) روسی فورسز کے کیف سے انخلا کے بعد قریبی علاقوں بوجا اور ایرپن میں 400سے زائد افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ان ہلاکتوں کو نسل کشی قرار دیا۔ یوکرین میں تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے اتنے وسیع پیمانے پر شہریوں کی ہلاکت کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد سے عالمی سطح پر روس کی مذمت جاری ہے۔کئی ممالک ماسکو پر اضافی پابندیوں کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ یوکرین میں ریڈ کراس کے نمائندے کی جانب سے ڈی ڈبلیو کو بتایا گیا کہ کیف کے یہ نواحی علاقے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ہیومن رائٹس واچ کی ایک سینئر مشیر آئسلنگ ریڈی نے بتایا کہ مبینہ مظالم ممکنہ طور پر جنگی جرائم ہو سکتے ہیں۔روسی وزارت دفاع نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی فوٹیج کیف حکومت کی من گھڑت ہے اور مغربی میڈیا کے لیے تیار کی گئی ہے۔