جمرود (مانند نیوز ڈیسک) تیراہ سورکس میں متاثرین کے دو بارہ بحالی کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے مارکیٹ کو تعمیر کیا گیا ہے اور اس پر بولی (اوکشن) کیا جارہا ہے جس میں ہمیں نظر انداز کیا گیا ہے تاہم ہمارے بھی مذکورہ علاقے میں آباد و اجداد کے ملکیت یعنی میراثی اراضی موجود ہے۔ لیکن ہمارے مخالفین نے ان اراضی پر ذبردستی قبضہ کر لیا ہے۔ان خیالات کا اظہار جمرود پریس کلب میں غنڈی کے رہائشی جہانزیب آفریدی اور سراج آفریدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مارکیٹ کے غیر قانونی اور زبردستی بولی رکوانے کے خلاف کرنل تیمور کو درخواست دیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس بولی میں ہمیں بھی حصہ دیا جائے لیکن یقین دھانی کے باوجود بھی ہمیں نظر انداز کیا گیا جو ہمارے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ انہوں نے ایف سی اور سول انتظامیہ کے اعلی حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مخالفین شربت خان ولد نعیم خان اور زربت خان ولد نعیم خان نے ہمارے ملکیت پر قبضہ کر لیا جو ایک قبضہ مافیا ہے تاہم ان کے خلاف کارروائی کرکے ہماری زمینیں واگزار کرائیں جائیں اور غیر قانونی و ظالمانہ بولی کو روک کر ہمیں بھی حصہ دیا جائے۔انہوں نے انتظامیہ کو خبردار کیا کہ ہمارے مخالفین کے مابین دشمنی سالوں سے چلتی آرہی ہے جس میں درجنوں افراد قتل کئے گئے ہیں اگر حکومت نے اصلاح احوال نہیں کیا تو مزید خون ریزی کا بھی خطرہ ہے جس کی زمہ داری ایف سی حکام سمیت شربت خان خاندان پر عائد ہوگی۔