شا نگلہ (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعلی خیبر پختونخواہ محمود خان کا صوبائی وزیر محنت وثقافت شوکت یوسفزئی کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ ضلع شانگلہ اورکوہستان کا دورہ،متاثرین میں امدادی چیک تقسیم کئے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا اور دیگر صوبوں کا موازنہ کیا جائے، یہاں بہت بہتر کام ہورہا ہے، صوبہ سیلابی صورتحال سے متاثر ہوا ہے، متاثرہ علاقوں میں روڈ انفراسٹرکچر اور بجلی سپلائی متاثر ہوئی ہے، روڈ انفراسٹرکچر اور بجلی کی بحالی وفاقی حکومت کو زمہ داری بنتی ہے، مگر وفاقی حکومت صوبہ خیبرپختونخوا میں بحالی اقدامات نہیں کررہی، وفاق ذمہداری نہیں لے گی تو صوبہ بحالی اقدامات کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ندھ کے روز سیلاب سے متاثرہ علاقوں ضلع شانگلہ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات حیت میں کیاشانگلہ اورکوہستان دورے کے موقع پرصوبائی وزیر شوکت یوسفزئی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے دورے کے دوران شانگلہ کروڑہ،چیلی اور کوہستان پٹن،دوبیر  پہنچے، کروڑ ہ سیلاب سے متاثرہ رورل ہیلتھ سنٹرکروہ ڑ کا جائزہ لیا، ضلعی انتظامیہ سے صورتحال پر بریفنگ لی۔ انھو ں نے کروڑہ، کوہستان پٹن،دوبیر متاثرین میں امدادی چیک تقسیم کئے۔ روڈ بحالی اقدامات کا جائزہ لیا اور سیلاب متاثرین و عمائدین سے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے امدادی چیک کی رقم میں اضافے کے احکامات بھی جاری کئے۔ شانگلہ دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر شانگلہ ضیاء الرحمان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو شانگلہ میں سیلاب سے نقصانات، ریسکیو، ریلیف و بحالی اقدامات پر بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیلابی صورتحال کے دوران چار اموات ہوئے اور آٹھ افراد زخمی ہوئے، اسی طرح انفراسٹرکچر کو بھی سیلابی ریلوں تین سب ڈویژنوں اور اور پانچ سب تحصیلوں میں متاثر کیا ہے جس میں این ایچ اے روڈز دو جگہ جبکہ نو مین روڈز اور 242 لنک روڈز سیلابی ریلوں کی وجہ سے جابجا متاثر ہوئے، شانگلہ میں سیلابی ریلوں سے 77 سکولوں کو نقصان پہنچا، 34 گھر مکمل تباہ ہوئے، 78 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا، 14 ٹراؤٹ فش فارمز اور سات ایریگیشن چینل متاثر ہوئے۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں وزیر اعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تفصیلی اسسمنٹ ہوگی اور اس ضمن میں بحالی کیلئے مکمل اقدامات کئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ چکیسر اور کانا تحصیل روڈز کو ایشئین ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل کیا گیا ہے جس سے ضلع شانگلہ میں روڈ انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنایا جاسکے گا۔ بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس کے سوالات کے جواب میں وزیر اعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ سندھ میں لوگ گھاس کھا رہے ہیں متاثرین کو پچاس پچاس روپے دیئے جارہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کو یہ پتہ نہیں کہ الو کلو کے حساب سے بکتا ہے کہ درجن کے حساب سے ان لوگوں کے اربوں کھربوں کی جائیدادیں کدھر سے ائی۔یہ ان کے باپ کے پیسے نہیں ہیں ہمارے ٹیکسوں کے پیسیہ ہیں،یہ ہمارے لیڈر نہیں۔ہمارے لیڈر عمران خان ہیں جو کل چار گھنٹوں میں اربوں جمع کرگئے۔صوبے کے پاس دوہیلی کاپٹر ہیں خراب موسم میں وہ فلائی نہیں کرسکتے۔سانحہ کوہستان کا مجھے لیٹ پتہ چلا،خراب موسم میں ان افراد کو ریسکیو نہیں کیا جاسکتا تھا۔وزیر اعلیٰ محمود خان نے کیاکہ ا نفراسٹرکچر کی بحالی پر کام جاری ہے۔وزیر اعلیٰ نے کوہستان کا نھی دورہ کیا اور سیلاب متاثرین سے ملاقات، مسائل سنے، نقصانات کا جائزہ بھی لیا۔ وزیر اعلیٰ نے سیلاب متاثرین میں امدادی چیک تقسیم کئے۔ سیلاب زدگان کو ریلیف فراہم کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے