اسلام آباد(مانند میڈیا) سپریم کورٹ آف پاکستان کے 5رکنی لارجر بینچ نے جیو نیوز،شاہزیب خانزادہ اور دیگر کی جانب سے مرحوم اینکر اور سابق وزیر مملکت برائے مذہبی امورڈاکٹرعامر لیاقت حسین، بول ٹی وی کے سابق مالک شعیب احمد شیخ اوردیگرکے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواستیں ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کر دیں۔ درخواست گزاروں کی جانب سے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ بطور وکیل پیش ہوئے اور بھرپور دلائل دیے تاہم بینچ کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر 5 رکنی لارجر بینچ نے جیوٹی وی کے اینکرپرسن شاہزیب خانزادہ،انڈیپینڈنٹ میڈیا کارپوریشن اوردیگرکی جانب سے مرحوم اینکراورسابق وزیرمملکت مذہنی امورڈاکٹرعامرلیاقت حسین،سابق مالک بول ٹی وی شعیب احمد شیخ اورسابق ڈائریکٹر نیوز بول ٹی وی شاہزیب کے خلاف دائرتوہین عدالت کی درخواستوں پر سماعت کی۔درخواست گزاروں کی جانب سے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ بطور وکیل پیش ہوئے۔ جسٹس شاہد وحید کافیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ کیا آپ اپیل چلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ فیصل صدیقی کاکہناتھا کہ عامر لیاقت وفات پاگئے ، دیگر دو کے خلاف کاروائی چاہتے ہیں، عامر لیاقت کے خلاف کاروائی کافیصلہ ہوااورانہوں نے معافی مانگ لی جس پر سپریم کورٹ نے سارا کیس ہی نمٹادیا۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ پہلے ہم حقائق دیکھیں گے پھر آگے چلیں گے۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ14آرڈو پیمرانے جاری کئے اور جب مین آرڈر واپس لے لیا تو کاعبوری حکم خودبخود ختم نہیں ہوجائے گا۔ فیصل صدیقی کاکہناتھا کہ عامرلیاقت کے خلاف توہین عدالت کی فرد جرم عائر ہوئی جس کے بعد انہوںنے معافی مانگی۔ جسٹس شاہد وحید کاکہناتھا کہ سپریم کورٹ نے 11ستمبر2018کے آرڈر میں تصور کیا کہ عامر لیاقت نے ہی توہین کی ہے اس لئے صرف اُن کے خلاف ہی کیس چلایاجائے گا، جس عبوری آرڈر کاوجود ہی نہیں پھر کیسے اُس کے خلاف آگئے ، اُس وقت باقیوں کے خلاف کاروائی کاکیوں مطالبہ نہیں کیا۔فیصل صدیقی کاکہناتھایہ کہ ڈاکٹر عامر لیاقت نے اپنی غلطی تسلیم کی تھی اور معافی مانگی۔ جسٹس شکیل احمد کاکہناتھاکہ کہ دیگر کے خلاف کوئی مخصوص آرڈر نہیں۔ فیصل صدیقی کاکہناتھایہ کہ نفرت انگیز تقریر کی گئی، عامر لیاقت صرف پیش کرنے والے تھے ، اس طرح لوگ عدالتوں کا مذاق بنا دیں گے۔فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ میر شکیل الرحمن، ان کے بیٹوں اور شاہزیب خانزادہ کے خلاف توہین مذہب کا الزام لگایا گیا ، نجم سیٹھی روزانہ بیٹھ کر کہتے تھے انہیں قتل کیا جائے ، کوئی احتساب ہونا چاہیے۔جسٹس عقیل احمد عباسی کاکہناتھاکہ کہ سپریم کورٹ نے تصور کیا کہ دو لوگوں نے توہین عدالت نہیں کی اس لیے ان پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی، عدالت نے سوچ سمجھ کر دو کے خلاف فرد جرم عائد نہیں کی، کیا ضروری ہے کہ اگر چار کے خلاف توہین عدالت کی درخواست تو عدالت چاروں پر فرد جرم عائد کرے۔جسٹس عقیل احمد عباسی کا کہنا تھا کہ یہ بے کار مشق ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عدالت نے صرف عامر لیاقت کے خلاف فرد جرم عائد کی اور انہیں توہین کندہ لکھا اور معافی مانگنے پر معاملہ ختم کر دیا۔فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ میری درخواستیں نمٹانی چاہیں تھیں یا خارج کرنا چاہیں تھیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کاکہناتھاکہ کہ جس نے الفاظ بولے اس نے معافی مانگی توکیوں اسے ہی معافی تصور نہ کیا جائے۔جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ نوٹس سب کو ہوا تھا پھر عدالت نے صرف ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے خلاف کارروائی کی، درخواست گزاروں نے اسے چیلنج نہیں کیا، ٹی وی مالک اور افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ نہیں کیا،درخواست نہیں دی کہ دیگر کونوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا جائے۔جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا کہ عدالت کی مرضی ہے وہ کس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے۔فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ مرحوم نے مرنے سے پہلے سب تسلیم کیا اور معافی مانگی باقی کے پاس تو کہنے کو بھی کچھ نہیں،آرڈر صرف مرحوم کے خلاف نہیں چینل کے خلاف ہونا تھا۔ بینچ نے فیصل صدیقی کے دلائل سننے کے بعد درخواستیں ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کر دیں۔تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے