اسلام آباد(مانند نیوز)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ پہلے وکیل کیس بتائیں پھر عدالت نوٹس جاری کرے گی، ہم تواپنا کام وقت پر کرنا چاہ رہے ہیں اگر وکیل اپنا کام وقت پر نہیں کرنا چاہ رہے توہم کیا کریں، اپیل اورنظرثانی خارج ہوئی، تین عدالتوں نے کیس خارج کیا ہے توپھرسپریم کورٹ فیکٹس نہیں دیکھے گی، ہم باریکیوں میںنہیں جائیں گے، کوئی قانونی سقم رہ گیا ہے تووکیل بتادیں۔ زخمی قتل کے کیسز میں سب سے زیادہ خطرناک گواہ ہوتا ہے، زخمی جھوٹ کیوں بولے گا۔ خود اپنے آپ کو کون مارے گا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت خان اورجسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے جمعہ کے روز مختلف کیسز کی سماعت کی۔ بینچ نے قتل کیس میں گرفتار ملزم شوکت پرویز کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ واقعہ میں دو افراد قتل ہوئے اورایک زخمی ہوا تھا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کی عمر 79سال ہے اوروہ صحت مند ہے اورچلتا پھرتا ہے اس لئے معمر افراد کے حوالہ سے قانون درخواست گزار پر لاگو نہیں ہوتا۔ جسٹس عرفان سعادت خان کا کہنا تھا کہ موقع سے کلاشکوف کی 20گولیوں کے خول ملے جبکہ ایک اسلحلہ ایسا بھی بتایا گیا ہے جس کو پانچ افراد مل کراٹھاسکتے ہیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ نائم ایم ایم، 30بور، کلاشنکوف، 12بور شارٹ گن سمیت 7ہتھیار واقعہ میں استعمال ہوئے۔ جسٹس عرفان سعادت خان کا کہنا تھا کہ یہ مزید انکوائری کاکیس ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ زخمی جھوٹ کیوں بولے گا، زخمی نے درخواست گزارکونامزدکیا کہ نہیں؟ زخمی ایسے کیسز میں سب سے زیادہ خطرناک گواہ ہوتا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جتنے ہتھیار استعمال ہوئے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جتنے ملزمان کو نامزدکیا گیا وہ درست ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ خود اپنے آپ کو کون مارے گا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گھر کے اندر واقعہ ہوا ہے، کوئی گلی کوچے میں تونہیں ہوا، درخواست گزار کی درخواست خارج کریں یا وہ واپس لیں گے۔ درخواست گزار کے وکیل کاکہنا تھا کہ وہ درخواست واپس لے لیتے ہیں تاہم ٹرائل کورٹ کو چار ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم کیا کریں یہ وکیل نہ بتائیں۔ چیف جسٹس کا حکم لکھواتے ہوئے کہنا تھا کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ پولیس چالان داخل ہوگیا ہے اورملزم پر فرد جرم عائد ہو گئی ہے۔ اگر جلد ٹرائل مکمل ہوتودرخواست گزارکو کوئی اعتراض نہیں، ٹرائل کورٹ کے جج پراسیکیوشن کو کوئی غیر ضروری التوانہیں دیں گے اورتیزی کے ساتھ ٹرائل مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ عدالت نے درخواست واپس لینے بنیاد پر نمٹا دی۔ جبکہ بینچ نے وہاڑی ڈسٹرکٹ کورٹ کے گیٹ پر فائرنگ کے ملزم محمد نیاز کی درخواست بعد ازگرفتاری پرسماعت کی۔درخواست گزار کی جانب سے سکندر جاوید بطور وکیل پیش ہوئے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹرجنرل احمد رضا گیلانی پیش ہوئے۔ عدالتی نوٹس پر شکایت کندہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ احمد رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ دفعہ 109میں ملزم کو چالان کیا گیا ہے۔ شکایت کندہ نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں وکیل کرنے کے لئے وقت دیں۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم نے نوٹس کیا تھا وکیل کرنا تھا لے آتے، یہاں التوانہیںملتا۔ شکایت کندہ نے چیف جسٹس کے سامنے ہاتھ جوڑے جس پر چیف جسٹس نے انہیں ہاتھ نیچے کرنے کی ہدایت کی۔ شکایت کندہ کا کہنا تھا کہ بڑی بھاری اکثریت سے پولیس نے پیسے کھائے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سرکار کے بڑے قابل وکیل ہیں وہ آپ کی وکلالت کرلیں گے آپ پیسے کیوں خرچتے ہیں۔ عدالت نے درخواست گزار کی ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عیوض درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے قراردیا کہ یہ یہ مزید انکوائری کاکیس ہے۔ جبکہ بینچ نے زرگل خان کی جانب سے فرید اللہ اوردیگر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پہلے وکیل کیس بتائیں پھر عدالت نوٹس جاری کرے گی، ہم تواپنا کام وقت پر کرنا چاہ رہے ہیں اگر وکیل اپنا کام وقت پر نہیں کرنا چاہ رہے توہم کیا کریں، اپیل اورنظرثانی خارج ہوئی، تین عدالتوں نے کیس خارج کیا ہے توپھرسپریم کورٹ فیکٹس نہیں دیکھے گی، ہم باریکیوں میںنہیں جائیں گے، کوئی قانونی سقم رہ گیا ہے تووکیل بتادیں۔ عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کردی۔ جبکہ بینچ نے محکمانہ ترقی کے معاملہ پر صوبائی پولیس آفیسر خیبرپختونخوا، پشاور کی جانب سے زاہد الرحمان کے دائر درخواست پر سماعت کی۔ چیف جسٹس کاایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ کا ملازم ہے اس تک نوٹس توبھجوائو۔ اس پر کمرہ عدالت میں موجود مدعا علیہ روسٹرم پر آگئے اور بینچ کو بتایا کہ میں 2006سے ترقی مانگ رہا تھا تاہم مجھے 2002سے سنیارٹی مل گئی ہے۔ چیف جسٹس کا مدعاعلیہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ زبانی مسترد نہیں ہوتا بلکہ کاغذ کے زریعہ مستر دہوتا ہے، کوئی کاغذ کا ٹکڑا دکھائیں ورنہ درخواست گزار کیس جیت جائیں گے۔ وعدالت نے مدعا علیہ کو مزید دستاویزات لگانے کا وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔ ZS