کابل (مانند میڈیا): افغانستان کی وزارت خارجہ نے کابل میں پاکستان کے سفارتخانے کے ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا ہے۔ افغان وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی ناظم الامور کو ‘تخریبی مسلح عناصر’ کی جانب سے ڈیورنڈ لائن عبور کرکے افغان صوبے نورستان میں داخل ہونے کے معاملے پر طلب کیا گیا اور اس حوالے سے افغان حکومت کا احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ بی بی سی کے مطابق افغان حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان سے متصل افغان صوبوں نورستان اور کنڑ میں طالبان حکومت کی فورسز اور مخالف مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ افغان حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض مسلح افراد نے ڈیورنڈ لائن عبور کرکے افغانستان میں داخل ہونے کی کوشش کی اور انہیں پاکستان کی حمایت حاصل تھی۔ افغان وزارت دفاع کے مطابق صوبہ نورستان کے ضلع کامدیش کے قریب ایک کارروائی کے دوران 28 افراد ہلاک جبکہ 32 کو گرفتار کیا گیا۔ افغان حکام نے دعویٰ کیا کہ گرفتار اور ہلاک ہونے والے افراد کو پاکستان میں تربیت دے کر افغانستان میں تخریبی کارروائیوں کے لیے بھیجا گیا تھا۔ تاہم پاکستان نے افغان حکام کے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ افغان صوبے نورستان میں مبینہ تشدد یا سکیورٹی کارروائیوں کو پاکستان سے جوڑنے کے دعوے بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔ افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سکیورٹی اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔  

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے