غزہ(مانند میڈیا) غزہ کی پٹی میں ادویات، طبی سامان اور ایندھن کی شدید قلت کے باعث صحت کا نظام بدترین بحران سے دوچار ہے ، جبکہ طبی امداد اور ضروری رسد کے داخلے میں رکاوٹوں کے باعث ہسپتالوں کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ میں جاری حملوں اور طبی مراکز کو پہنچنے والے نقصان کے ساتھ ساتھ بنیادی طبی رسد کی قلت نے صحت کے بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ غزہ میں امداد اور طبی سامان کے داخلے میں رکاوٹیں صحت کے شعبے کی آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت محدود کر رہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق طبی سامان کی متعدد کھیپیں کرم ابوسالم گزرگاہ پر پھنسی ہوئی ہیں۔ ان کھیپوں میں تقریباً 50 انتہائی نگہداشت کے بستر، ادویات اور دیگر اہم طبی سامان کی 170 کھیپیں شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ غزہ کے صحت کے مراکز پہلے ہی ادویات، طبی آلات، سامان اور ایندھن کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث بنیادی طبی خدمات کی فراہمی مشکل ہوگئی ہے۔ فلسطینیوں کے لیے طبی امداد کی تنظیم ‘ایم اے پی’ کے مطابق غزہ کے 57 ہسپتالوں میں سے صرف 35 جزوی طور پر کام کر رہے ہیں، جبکہ کوئی بھی ہسپتال مکمل صلاحیت کے ساتھ فعال نہیں۔ تنظیم نے کہا کہ طبی مراکز کو ادویات، ایندھن اور طبی سامان کی قلت کا سامنا ہے ، جس سے صحت کے نظام کی بحالی اور شہریوں کو بنیادی طبی خدمات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ ‘ایم اے پی’ کے مطابق طبی سہولیات پر حملوں اور رسائی میں رکاوٹوں کے باعث کمال عدوان ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کے لیے انتہائی نگہداشت کے یونٹ کا منصوبہ بھی معطل کرنا پڑا، جبکہ غزہ یورپین ہسپتال کی بحالی کا منصوبہ ناصر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ عالمی ادارہ صحت کی مشرق وسطیٰ کے لیے علاقائی ڈائریکٹر حنان بلخی نے خبردار کیا ہے کہ طبی امداد کے داخلے میں مسلسل رکاوٹیں غزہ میں صحت کے ردعمل کو متاثر کر رہی ہیں۔ حنان بلخی کے مطابق غزہ میں بیماریوں کا پھیلاؤ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے ، جبکہ صحت اور انسانی صورتحال میں بگاڑ کے ساتھ طبی رسد اور خدمات تک رسائی میں مشکلات برقرار ہیں۔ ‘ایم اے پی’ نے غزہ کی بگڑتی انسانی اور صحت کی صورتحال کے تناظر میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت، بشمول ایف 35 طیاروں کے اجزا، روکنے ، عسکری تعاون ختم کرنے اور برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان تجارتی معاہدہ معطل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ادارے کے مطابق غزہ میں صحت کا بحران اب صرف ادویات اور طبی سامان کی قلت تک محدود نہیں رہا بلکہ ہسپتالوں کی معمول کے مطابق کام کرنے اور بڑھتی ہوئی طبی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت بھی شدید متاثر ہوچکی ہے