اسلام آباد (مانند میڈیا)وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی کی صدارت میں دکانداروں کے لیے "آسان ٹیکس سکیم” پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں سکیم پر اب تک کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف بی آر افسران تاجر نمائندوں کے ساتھ مل کر جمعہ کے دن سے ملک بھر میں بازاروں اور ایک ایک دکان کی میپنگ کا باضابطہ آغاز کریں گے۔ وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے ہدایت کی کہ یومیہ شیڈول کے مطابق ایف بی آر افسران اور تاجر رہنما مل کر بازاروں کے دورے کریں اور اس دوران دکانداروں کو آسان ٹیکس سکیم سے متعلق مکمل آگاہی بھی فراہم کی جائے۔ اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ تاجروں کی نشاندہی اور شکایت پر ٹیکس ریٹرن میں "دیگر آمدن” کے کالم سے متعلق درپیش تکنیکی مسئلہ حل کر لیا گیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا: "دکانداروں کو ان کی مرضی اور باہمی مشاورت سے تیار کردہ سکیم دی گئی ہے ، جس کے بعد اب ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ تاجر ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں کی گئی 15 دن کی توسیع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ جرمانوں کا تعین بھی تاجروں کی مرضی سے کیا گیا ہے۔ مقررہ ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ریٹرن فائل نہ کرنے والے دکاندار پر پہلے مہینے میں 10 ہزار، دوسرے مہینے میں 25 ہزار اور تیسرے مہینے میں 50 ہزار روپے جرمانہ لاگو ہو گا۔ اجلاس میں معروف تاجر رہنماؤں اجمل بلوچ، کاشف چوہدری اور حبیب فخر الدین نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ممبر اسٹریٹجک ٹرانسفارمیشن ڈاکٹر حامد عتیق، ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز زبیر بلال اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام سمیت ملک بھر کے چیف کمشنرز اور کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ آسان ٹیکس سکیم کے موثر عملدرآمد کے لیے جائزہ اجلاسوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔