اسلام آباد (مانند میڈٰیا) مچھروں سے بچاؤ کے لیے گھروں میں عام طور پر استعمال ہونے والے مچھر مار کوائل کا دھواں انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بند یا کم ہوادار جگہ پر کوائل جلانے سے کاربن مونو آکسائیڈ، باریک ذرات اور دیگر کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں جو سانس کی نالی اور پھیپھڑوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھروں سے بچاؤ کے لیے کوائل جلانے کا رواج عام ہے ، خصوصاً ایسے موسم میں جب ڈینگی اور ملیریا جیسے مچھروں سے پھیلنے والے امراض کے کیسز میں اضافہ ہوتا ہے ، تاہم اس کے دھوئیں سے بچوں، بزرگوں، الرجی اور دمے کے مریضوں سمیت دیگر افراد کی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔ سینہ، سانس اور الرجی کے ماہر ڈاکٹر شازلی منظور کے مطابق بند کمرے میں کوائل جلانا صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہا کہ کوائل میں موجود کیمیکلز جلنے کے دوران مختلف زہریلے مادے خارج کرتے ہیں، جو بند جگہ میں انسانی صحت کو متاثر کرسکتے ہیں۔ڈاکٹر شازلی نے مشورہ دیا کہ اگر کوائل استعمال کرنا ناگزیر ہو تو اسے کھلی اور ہوا دار جگہ پر لوگوں سے مناسب فاصلے پر رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوائل کو میز یا کرسی کے بالکل قریب رکھنے کے بجائے ایسی جگہ رکھا جائے جہاں اس کا دھواں براہ راست سانس میں داخل نہ ہو۔آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے ماہر امراض سینہ ڈاکٹر جاوید خان کے مطابق ایک رات بند کمرے میں مچھر مار کوائل جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں 60 سے 100 سگریٹ کے دھوئیں کے برابر ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق مختلف کمپنیوں کے کوائل میں مختلف کیمیکلز استعمال ہوسکتے ہیں، تاہم عام طور پر پائریتھرین، کاربن مونو آکسائیڈ اور بینزین سمیت متعدد مرکبات موجود ہوسکتے ہیں۔ایک سابقہ سائنسی تحقیق کے مطابق سات سے آٹھ گھنٹے تک جلنے والے ایک مچھر کوائل سے خارج ہونے والے PM2.5 ذرات کی مقدار 75 سے 137 سگریٹ جلنے کے برابر ہوسکتی ہے ، جبکہ فارملڈیہائیڈ کا اخراج 51 سگریٹ جلانے سے پیدا ہونے والی مقدار کے برابر یا اس سے زیادہ ہوسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق کوائل کے دھوئیں میں موجود کاربن مونو آکسائیڈ خون کی آکسیجن لے جانے کی صلاحیت متاثر کرسکتی ہے جبکہ باریک ذرات، غیر مستحکم نامیاتی مرکبات اور دیگر آلودہ مادے ناک، گلے اور سانس کی نالی میں جلن کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور آنکھوں میں جلن جیسی شکایات پیدا ہوسکتی ہیں۔ڈاکٹر جاوید خان کے مطابق کوائل کا دھواں بعض افراد میں الرجی اور سانس کی بیماریوں کو بڑھا سکتا ہے ، جبکہ الرجی کے شکار بچوں میں رات کے وقت کھانسی اور دمے کے دورے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔تحقیقی مطالعات کے مطابق مچھر کوائل جلانے کے بعد گھر کے اندر کی فضا میں کاربن مونو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، غیر مستحکم نامیاتی مرکبات اور باریک ذرات سمیت متعدد فضائی آلودہ مادے پائے گئے ہیں۔ کم ہوادار کمروں میں ان آلودہ مادوں کی موجودگی صحت کے لیے زیادہ تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق کوائل کا دھواں صرف دمے یا الرجی کے مریضوں کے لیے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ صحت مند افراد میں بھی ناک، گلے اور سانس کی نالی میں جلن، کھانسی اور آنکھوں میں پانی آنے جیسی شکایات پیدا کرسکتا ہے۔مچھروں سے بچاؤ کے لیے ماہرین نے مچھر دانی کے استعمال، کھڑکیوں اور دروازوں پر جالی لگانے اور گھروں کے آس پاس پانی کھڑا نہ ہونے دینے کی تجویز دی ہے۔ ان کے مطابق بچوں کو کھلے میں سونے سے گریز کرایا جائے جبکہ مچھروں سے بچاؤ کے لیے کوائل کے بجائے دیگر نسبتاً کم دھوئیں والے طریقوں، مثلاً الیکٹرک ریپیلنٹ یا مناسب لوشن، کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ماہرین نے خاص طور پر مشورہ دیا ہے کہ بند کمرے میں کیمیکل پر مبنی مچھر بھگانے والے اسپرے یا کوائل استعمال نہ کیے جائیں، جبکہ دمے ، سانس کے امراض یا دیگر حساسیت رکھنے والے افراد کو دھوئیں سے خصوصی احتیاط کرنی چاہیے