اسلام آباد(مانند نیوز) حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے موجودہ سیاسی محاذ آرائی ختم کرنے اور پارٹی کا مارچ منسوخ کرنے کی راہ ہموار کرنے کیلئے 2؍ روز کی بھرپور مشاورت کے بعد 5؍ نکاتی مفاہمت طے کر لی تھی، تاہم خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مجوزہ طریقۂ کار پر ایک نیا اعتراض اٹھائے جانے کے بعد یہ مفاہمت خطرے میں پڑ گئی۔ مذاکرات میں شامل ذرائع نے بتایا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے فریقین کے درمیان کئی ہفتوں کے رابطوں اور پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان متعدد ملاقاتوں کے بعد یہ مفاہمت طے پائی تھی۔ ذرائع کے مطابق، دونوں فریق اس بات پر متفق ہو گئے تھے کہ وزیراعظم اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں اپوزیشن رہنما آئینی، انتظامی، قانونی اور سیاسی معاملات پر بات چیت اور ان کے حل کیلئے ملاقات کریں گے۔ یہ بھی طے پایا تھا کہ وزیراعظم حکومت اور اپوزیشن کے مساوی ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیں گے۔ کمیٹی متفقہ مدت کے اندر سیاسی اور دیگر متنازع امور کا جائزہ لے گی، جس کا مقصد معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے معاملے پر اتفاق ہوا تھا کہ ڈاکٹروں کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی، جبکہ ان کے اہل خانہ اور وکلا کو جیل مینوئل کے مطابق ان تک رسائی حاصل ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ بھی طے پایا تھا کہ پرانے اور بیمار سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کے مقدمات پر قانون کے دائرۂ کار میں ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔ چوتھا اور خاص طور پر حساس نکتہ خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال سے متعلق تھا۔ صوبائی حکومت نے آئین اور قانون کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور اس حوالے سے صوبائی اسمبلی سے مشاورت کے بعد وفاقی حکومت کے ساتھ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریقوں نے ضم شدہ اضلاع کیلئے اقدامات پر بھی بات کی تھی، جن میں طے شدہ طریقۂ کار کے تحت ضرورت پڑنے پر 72؍ گھنٹوں کے اندر آئینی آپشن (ایمرجنسی) نافذ کرنا بھی شامل تھا۔ اس کے عوض پی ٹی آئی نے مفاہمت میں شامل وعدوں کی تکمیل کے بعد اپنا مجوزہ احتجاج منسوخ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے تھے کہ عمران خان کی بہن اور دیگر گرفتار ارکانِ پارلیمنٹ کو فوری طور پر رہا کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کو یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی کہ بیرسٹر گوہر اور عمران خان کی ایک بہن منگل کو پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقات کریں گی۔ تاہم، ذرائع کے مطابق اتوار کی علی الصبح یہ ابھرتی مفاہمت اس وقت مشکلات کا شکار ہو گئی جب خیبر پختونخوا کی حکومت نے اپنے نمائندوں کے ذریعے تقریباً رات 2؍ بجے دہشت گردی سے متعلق نکتے میں تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک نیا نوٹ بھیجا۔ ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردی سے متعلق شق پر حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان پہلے ہی بات چیت ہو چکی تھی اور اتفاق بھی ہو گیا تھا۔ تاہم، صوبائی حکومت کا اصرار تھا کہ وہ موجودہ شکل میں اس انتظام کو قبول نہیں کریں گے اور اگر انسدادِ دہشت گردی کے طریقۂ کار سے متعلق ان کی تجویز منظور نہیں کی جاتی تو پی ٹی آئی کو اپنا مجوزہ احتجاج جاری رکھنا چاہئے۔ ذرائع کے مطابق، وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے نمائندوں کے ذریعے خیبر پختونخوا حکومت کو اس بات پر آمادہ کرنے کی بھی کوشش کی کہ ضم شدہ اضلاع میں پولیس بھیجی جائے اور سکیورٹی صورتحال پر قابو پانے کیلئے ضروری اقدامات کیے جائیں، جن میں دونوں فریقوں کے درمیان زیر بحث آنے والے آئینی طریقۂ کار کے تحت اقدامات بھی شامل تھے۔ تاہم، ذرائع نے بتایا کہ یہ تجویز صوبائی حکومت کی رضامندی حاصل نہ کر سکی۔ آخری وقت میں پیدا ہونے والے اس اختلاف نے گزشتہ 2؍ روز کے دوران بڑی محنت سے طے پانے والی مفاہمت کو خطرے میں ڈال دیا اور کئی ہفتوں سے جاری پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے ہونے والی پیش رفت کو ختم کرنے کا خطرہ پیدا کر دیا۔ ذرائع نے اس پیش رفت کو بیرسٹر گوہر اور محسن نقوی کی قیادت میں ہونے والی کوششوں کیلئے بڑا دھچکا قرار دیا، جن کے مسلسل رابطوں نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ دونوں فریقوں نے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران سیاسی طور پر آگے بڑھنے کی راہ تلاش کرنے اور پی ٹی آئی کے احتجاج کے منصوبوں کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنے کیلئے متعدد ملاقاتیں کی تھیں۔ ان کی کوششیں 2؍ روز کی بھرپور مشاورت پر منتج ہوئی تھیں، جس کے دوران 5؍ نکاتی مفاہمت طے کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی آخری وقت میں مداخلت نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جن میں وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت کے درمیان طے پانے والی مفاہمت اب غیر یقینی کا شکار ہے۔ اس پیش رفت نے احتجاج کے معاملے پر پی ٹی آئی کے اندر متفقہ مؤقف برقرار رکھنے میں درپیش مشکلات کو بھی نمایاں کر دیا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال وفاقی حکومت اور سکیورٹی حکام کیلئے بدستور مرکزی تشویش کا باعث ہے۔ حکومتی فریق نے مذاکرات کے دوران واضح کر دیا تھا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کو سڑکوں کی بندش، اسلام آباد میں خلل یا ایسی محاذ آرائی پر مبنی سیاست کے تسلسل کا سبب بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جسے حکومت اسی نوعیت کی سیاست قرار دیتی ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے عمران خان، اپنے گرفتار رہنمائوں اور کارکنوں سے متعلق ٹھوس سیاسی اور انسانی بنیادوں پر اقدامات کے ساتھ حکومت کے ساتھ وسیع تر سیاسی روابط کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ معاہدے کے ذریعے دونوں فریقوں کے بنیادی تحفظات دور کرنے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم خیبر پختونخوا کی سکیورٹی سے متعلق انتظام پر تنازع پوری مفاہمت کو پٹڑی سے اتارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مجوزہ احتجاج میں اب صرف چند گھنٹے باقی ہیں، اس لیے دہشت گردی سے متعلق نکتے پر اختلافات ختم کرنے کی آخری وقت کی کوششوں کی کامیابی یا ناکامی اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ آیا بڑی محنت سے طے پانے والا یہ انتظام برقرار رہتا ہے یا سیاسی محاذ آرائی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے