پشاور(مانند نیوز)گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہاہے کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے معاشرے کے اندھیرے میں گھرے افراد کی زندگیوں میں روشنیاں لانی ہیں۔نوجوانوں کو نصیحت کرتاہوں کہ وہ اپنی عملی زندگی میں برداشت، اقدار، تہذیب اوراخلاقیات کا دامن کبھی نہ چھوڑیں کیونکہ ان اصولوں کے اندررہتے ہوئے نہ صرف آپ اپنے ملک بلکہ دنیامیں اپنا نام اورمقام پیدا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ باچاخان یونیورسٹی ایک ایسی معتبرشخصیت کے نام سے منسوب ہے کہ جس کی ساری زندگی عدم تشدد اور تعلیم کے حصول کی جدوجہد میں گزری ہے اور یہ باچاخان کی تعلیمی جدوجہد کا ثمرہے کہ آج اس علاقے میں ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ بچو ں اور بچیوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں مصروف عمل ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل ہونیوالے طلباء وطالبات نے باچاخان کا عدم تشدد کا فلسفہ دنیا بھر میں پھیلاناہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچاخان یونیورسٹی چارسدہ کے پہلے کانووکیشن سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گورنرنے اس موقع پر یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونیوالے 531 طلباء وطالبات میں گریجویشن، ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تقسیم کیں جبکہ تعلیمی کیرئرمیں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے والے 62 طلباء وطالبات میں گولڈ میڈلز بھی تقسیم کئے۔ اس موقع پر وائس چانسلر باچاخان یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمدنے گورنر کویونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ مذکورہ یونیورسٹی نے معیاری تعلیم کے ساتھ مالی و انتظامی ڈسپلن برقراررکھا ہوا ہے اور یونیورسٹی اس وقت 200 ملین سرپلس بجٹ میں ہے۔وائس چانسلر نے 2016 میں یونیورسٹی میں دہشت گردی کے واقعہ کو نظرمیں رکھتے ہوئے گورنر سے یونیورسٹی کی سیکورٹی کیلئے فرنٹیئرکانسٹبلری کے پلاٹون کی تعیناتی کا مطالبہ بھی کیا جس پر گورنرنے یونیورسٹی کی سیکورٹی یقینی بنانے کیلئے فرنٹیئر کانسٹبلری کی پلاٹون کی تعیناتی کا یقین دلایا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنرخیبرپختونخوا نے باچاخان یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی بشمول سرپلس بجٹ رکھنے پر وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر بشیراحمد، فیکلٹی اراکین اوریونیورسٹی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کیا اورکہاکہ باچاخان یونیورسٹی کی عمدہ کارکردگی صوبے کی دوسری یونیورسٹیوں کیلئے قابل تقلید ہونی چاہئیے۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی سرپلس بجٹ کو استعمال میں لاتے ہوئے یہاں زیرتعلیم طلباء وطالبات کی فیسوں میں واضح کمی لائے، وہ بحیثیت چانسلر باچاخان یونیورسٹی کو ملک کے بہترین تعلیمی اداروں کی فہرست میں شامل کرنے کیلئے نہ صرف اپنا تمام تر تعاون فراہم کریں گے بلکہ ہم سب کو ملکر صوبہ بھر میں اعلیٰ تعلیم کوعصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق یقینی بنانے کیلئے اپنا اپناکردار ادا کرناہوگا۔ انہوں نے کہاکہ صوبے کے نوجوان نسل کو تعلیم کی فراہمی، تربیت اور بہترین مستقبل فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ گورنر نے اس موقع پر تعلیمی میدان میں کامیابیاں حاصل کرنیووالے طلباو طالبات، والدین اور اساتذہ کو مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنی عملی زندگی میں اپنی تعلیم کا درست استعمال کرتے ہوئے اپنے والدین، یونیورسٹی اور ملک و قوم کیلئے فخر کا باعث ثابت ہوں گے۔ قبل ازیں گورنر خیبر پختونخوا نے باچا خان یونیورسٹی کے زیر تعمیر نئے کیپس کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں وائس چانسلر کی جانب سے جاری ترقیاتی کام سے متعلق بریفنگ دی گئی، اس موقع پر گورنر حاجی غلام علی کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے نئے کیمپس کی تعمیر میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی طرزتعمیر کی جھلک نظر آنی چاہئے اور تعمیراتی کام کو لانگ ٹرمز بنیادوں پر یقینی بنایا جائے، انہوں نے اس موقع پرموٹر ویز سے ملحقہ یونیورسٹی باونڈری وال کے باہر سڑک والی جگہ کو مزید کشادہ کرنے کی ہدایت کی تاکہ موٹر ویز کے ساتھ منسلک ہونیکے باعث آنیولے سالوں میں کار پارکنگ یا آمدورفت میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے اس موقع پر تعمیراتی کام سے متعلق کسی بھی قسم کی مشکلات یا رکاوٹوں کے خاتمہ کیلئے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔