وانا (مانند نیوز) وزیرستان وانا اولسی پاسون کے زیراہتمام رستم بازار وانا میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے اور وزیرستان میں بدامنی، ٹارگٹ کیلنگ، بھتہ خوری ، کالے شیشے، ڈکیتی، شرپسندی ، اغواکاری اور دہشتگرد تنظیموں کی دوبارہ بحالی کے مرکزی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جسمیں سیاسی جماعتوں سے پاکستان پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی ، عوامی نیشنل پارٹی ، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ ، پشتون تحفظ موومنٹ ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، وکلاء برادری، کونسلرز اتحاد ، تاجر برادری کے علاؤہ علاقے کے مختلف مکتب فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ وزیرستان وانا اولسی پاسون نے امن چیک پوسٹ سے ریلی نکال کر شیر فلنگ پمپ پر اختتام پذیر ہوا۔ انہوں نے حکومت نعرے بازی کی کہ امن کی بحالی سرکار کی ذمہ داری ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ کا اگر تجزیہ کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ پاکستان بلخصوص سابقہ فاٹا میں یکے بعد دیگرے سیاسی بحرانوں کا سلسلہ ، دہشتگردی کے واقعات ، صوبائی تعصب ، امن و امان اور دوسرے قومی مسائل کی ذمہ داری جہاں اور بہت سے عناصر پر ہے، وہاں ان میں اہم سیکیورٹی کی ناکامی بھی ہے ، دستور پاکستان 1973 کے آرٹیکل 9 حق زندگی اور آزادی کے تحفظ اور آرٹیکل 18 محفوظ معاش ، کاروبار اور تجارت کی ضمانت دیتا ہے، وہاں آرٹیکل 5 مملکت سے وفاداری ، دستور اور قانون کی اطاعت پر زور دیتا ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ 25 ویں آئینی ترمیم کے ساتھ ضلع لوئر وزیرستان بشمول سابقہ فاٹا خیبرپختونخوا کا حصہ بن چکا ہے اور دستور کے تمام شقیں ان علاقوں پر لاگو ہیں ۔ دستور کے آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو یکساں درجہ دیکر تمام امتیازات ختم کر دیتے ہیں۔ قانون اور آئین کی نظر میں یکساں قانونی تحفظ حاصل ہیں۔
وزیرستان وانا اولسی پاسون نے حکومت کے سامنے کچھ مطالبات رکھے، جس میں انہوں نے کہا کہ امن سول حکومت کی ذمہ داری ہے پولیس کو اگر مطلوب اشخاص یا کسی جگہ ، سرچ اپریشن یا کاروائی کرنا لازمی ہو تو قانون کے مطابق ایکشن لیا جائے ، اگر پولیس کو ایف سی یا فوج کی ضرورت پڑجائے تو پولیس آڈر 2002 کے تحت مدد لے سکتے ہیں۔ سابقہ فاٹا خیبرپختونخوا میں ضم ہو چکا ہے 1973 کے آئین کے تمام شقیں سابقہ فاٹا کے علاقوں پر لاگو ہیں ، لہذا آئین و قانون کے علاؤہ امن کمیٹی ، قوم لشکر یا 2007 معاہدہ ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ لوئر وزیرستان میں امن حکومتی رٹ کی بحالی سے مشروط ہے ، حکومتی رٹ کی بحالی کے لیے لوئر وزیرستان کو الگ ڈی پی او ، ڈی سی ، ججز بشمول تمام لائن ڈیپارٹمنٹ وانا منتقل کی جائے۔ اور جمشید وزیر کو فلفور بازیاب کیا جائے ۔ سپین ، اعظم ورسک ، شکئی ، انگوراڈا ، زرمیلن ، راغزائی تھانوں پر کام ، چھوٹے بڑے بازاروں میں چوکیاں قائم کرنا ، پولیس کو قانونی اختیارات اور مراعات دینا ، بند لیویز فورس کی نوکریاں بحال کرنا اور موجودہ پولیس نفری کی حاضر یقینی بنائی جائے۔ پولیس تھانوں ، پولیس چوکیوں اور دوران گشت پولیس کی تحفظ کیلئے ایمرجنسی بنیاد پر ایف سی تعینات کی جائے۔ کالے شیشے پر بلاامتیاز ( سرکاری، غیر سرکاری عناصر ) پر پابندی عائد کی جائے خلاف ورزی کرنے والے کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی کیلئے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ منشیات کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے۔ پاک افغان بارڈر انگوراڈا پر تجارت میں حائل روکاوٹیں دور کی جائے اور پاکستانی شناختی کارڈ ہولڈر کو انگوراڈا گیٹ پر بلا تفریق اجازت دی جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ہماری اختجاجی دھرنا جاری رہے گا۔