اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک)وزیراعظم میاں شہبازشریف نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے جنیوا میں ڈونرز کانفرنس منعقد ہوئی جو انتہائی کامیاب ثابت ہوئی۔ آ ٹے کا معاملہ صوبائی ہے، صوبوں کو ملوں کو گندم ریلیز کرنی ہے، وافر گندم کے باوجود صوبے ذمہ داریاں ادا نہیں کررہے، صوبے گندم ریلیز نہیں کررہے تو اس کا جواب ان سے لیں، صوبے عوام کوعذاب میں نہ ڈالیں، رحم کریں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی وزاراء کے ہمراہ پریس کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں تقسیم در تقسیم پیدا کی گئی، جنیوا میں دنیا کو وفاق نہیں تمام صوبوں کی یگانگت کا پیغام دیا گیا، کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت پر ہمارے عوام اور دنیا نے اعتماد کیا۔تحریک انصاف کی تنقید پر وزیر اعظم نے کہا کہ مخالفین نے ہمارے خلاف بدترین پروپیگنڈا کیا، مخالفین کے پراپیگنڈے پر کان دھرے جاتے تو امداد کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا، میں نے جینوا میں کہا تھا کہ امدادی رقم کی ایک ایک پائی عوام کی خوشحالی اور ترقی پر نچھاور کی جائے گی، امداد کے حوالے سے ہمیں طے کرنا ہوگا کہ کیسے ایک ایک پائی استعمال کرنی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف کا کہنا تھا کہ اس میں جائے بغیر کہ کتنے قرضے ہیں اور کتنی امداد ہے ہمیں پوری ذمہ داری اورپوری قوت کے ساتھ سیلاب متاثرین کی بحالی اورامداد کے لئے ایک، ایک پائی استعمال کرنی ہے، ہم نے اس وقت سیلاب متاثرین کو بسانا ہے اور انہیں دوبارہ آباد کرنا ہے۔ایک اورسوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ چوہدری طارق بشیر چیمہ ایک مرتبہ ملک میں آٹے کی صورتحال پر قوم کوپوری طرح اعتماد میں لے چکے ہیں، میں نے انہیں کہا ہے کہ آج (جمعرات)کے روز دوبارہ تمام حقائق کے ساتھ قوم کوفیکٹس بتائیں۔انہوں نے کہا کہ گندم کے ذخائر قوم کی ضروریات کے مطابق پوری طرح موجود ہیں، ہم نے گندم امپورٹ کی اوراربوں ڈالرز خرچ کئے، گندم کے سٹاکس پورے ہیں اور ملوں کو گندم کی فراہمی صوبائی معاملہ ہے، صوبوں نے ملوں کو گندم ریلیز کرنی ہے اور بڑی افسوسناک بات ہے اور جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے کہ وافر گندم ہونے کے باوجود اگر صوبے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کررہے اور بعض ملیں غیر قانونی کاموں میں شامل ہیں اس کا جواب صوبوں سے لیں، میرے اور (ن)لیگ کے10سالہ دور میں پنجاب میں ایک گھنٹہ بھی ایسا نہیں تھا جب آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہو، وفاق کے پاس آئینی اورقانونی جو بھی اقدامات ہیں ہم ان کا جائزہ لیں گے تاکہ ہم صوبوں کو ہم بتاسکیں کہ عوام کی جان پر رحم کریں اوران پر عذاب نہ ڈالیں۔ ایک سوال پر وزیر اعظم کا کہنا تھا جتنی برق رفتاری اور محنت سے کام کریں گے اوراپنی فزیبلیٹی اورڈیزائن بنائیں گے اتنی جلدی امداد دینے والے ممالک اورادرے متاثر ہوں گے اوراپنے امداد پاکستان کو فراہم کریں گے یہ سب ہمارے اوپر منحصر ہے۔ وزیر اعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ جو رقوم بیرون ملک سے آئیں گی اس میں سے حصہ بقدر جثہ سب کو حصہ ملے گا، سب سے زیادہ سیلاب سے تباہی سندھ میں ہوئی،اس کے بعد بلوچستان میں ہوئی، اس کے بعد پنجاب کے دوجنوبی اضلاع میں ہوئی، خیبرپختونخوا میں ڈیرہ اسماعیل خان او رسوات میں ہوئی، سب کو شامل کیا جائے گا،اگر صوبوں سے مشاورت نہ ہوتی تو پھر وزیر خزانہ کے پی تیمورسلیم خان جھگڑا کیوں جنیواآتے، وزیر اعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ جنیواگئے تھے، پنجاب حکومت نے اپنا ایک افسر بھیجا، بلوچستان کے چیف سیکرٹری گئے تھے، یہ کہنا کہ صوبوں کے ساتھ وفاق کے روابط نہیں تھے بالکل غلط بات ہے اور حقائق کے منافی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں بتاؤں کہ ہمیں جنیوا کانفرنس سے کتنے پیسے ملنے کی امید تھی بتایا تورپورٹر کاسرچھت کو جا کرلگے گا، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا بے پایاں کرم ہے اور موجودہ حکومت اور عوام پر اعتماد کا اظہار ہے، حکومت پاکستان سیلاب متاثرین کی بہترین انداز میں خدمت کررہی ہے، صوبوں نے بھی پیسے خرچ کئے ہوں گے اور وفاق نے 100ارب روپے خرچ کئے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعہ 27لاکھ گھرانوں یعنی ایک کروڑ80لاکھ افراد کو80سے90ارب روپے فراہم کئے گئے، یہ بڑے شفاف طریقہ سے تقسیم ہو ئی ہے، جو صوبہ مشاورت میں شامل نہیں ہوتا ہماری پوری کوشش ہو گی کہ ان کو مشاورت میں شامل کریں اورجو ان کا حق ہے وہ ان کو ہر صورت ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ میں اب برادر ملک متحدہ عرب امارات کے دورے پر جارہا ہوں، قوم دعا کرے کہ ہماری تجارت اورسرمایاکاری کے پورٹ فولیوز میں بڑھوتری آئے۔وزیر اعظم کا کہناتھا کہ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس کا بے پنا ہ مشکور ہوں انہوں نے ایک پاکستانی کی طرح پاکستان کے عوام کے لئے آواز اٹھائی اور بھرپورطریقہ سے پاکستان کے مسائل پر بات کی اورانہوں نے اپنی توانائی پوری قوت کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ لڑااورآج بھی انہوں نے جنیوا میں بھر پورآواز اٹھائی اوریہ ان کی محنت اورکاوشوں کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت ڈالی،پاکستان کے عوام اور حکومت کی طرف سے میں انتونیو گوتیریس کا بے حد شکریہ اداکرنا چاہتا ہوں اورپاکستانی قوم کی طرف سے ایک مرتبہ پھر ان کو ہدیہ تبریق پیش کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے 100ملین ڈا لرامداد دینے کا اعلان کیا ہے جس پر امریکا کے شکر گزار ہیں۔ اسلامی ترقیاتی بینک نے 4.2 ارب ڈالر امداد کا اعلان کیا۔ ورلڈ بینک نے 2 ارب ایشین بینک نے ایک ارب ڈالر امداد کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ چین نے 100 ملین ڈالر، یورپی یونین نے 87 ملین یورو، فرانس نے 380 ملین یورو کا اعلان کیا۔ جرمنی نے 84 ملین یوروز کا اعلان کیا۔۔سعودی نے ایک ارب ڈالر امداد کا اعلان کیا۔وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نے جنیوا کانفرنس میں ایک تیر سے دو شکار کئے، وزیراعظم کی خارجہ پالیسی کامیاب ہوچکی ہے۔بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ہماری پچھلے آٹھ،نو مہینے سے کی گئی محنت کا پھل نظر آ رہا ہے۔کانفرنس میں ہم نے اپنا ٹارگٹ پورا کر لیا۔ وزیراعظم اور اتحادی حکومت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے والوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم سیلاب متاثرین امداد اور بحالی کا کام تین سال میں مکمل کرنا ہے، پاکستان اپنے طرف سے سالانہ 650ارب ڈالرز سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے خرچ کرے گا،اگر آٹھ ارب ڈالرز کے وعدے نہ ہوتے اور دو، تین ارب ڈالرز کے دعدے بھی ہوتے تووزیر اعظم نے دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ ہم نے یہ کام کرنا ہی کرنا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے سوال پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ حکومت کوئی ایسا کام نہیں کرے گی جس سے عام آدمی پر بوجھ پڑے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین نے ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی گردان پکڑی ہوئی ہے۔ مخالفین کو کوئی بھی بات ہضم نہیں ہوتی۔ اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وہاں (جنیوا) میں کام کررہے تھے اور یہاں منفی ٹوئٹس ہو رہی تھیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک، یو این ڈی پی، ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور دیگر کے ساتھ جو پلان کیا گیا تھا وہ 16.3 ارب ڈالر کا تھا۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے فیصلہ کیا تھا کہ عالمی برادری کو یہ پیغام جانا چاہیے کہ اس ضرورت کا نصف پاکستان خود برداشت کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ جینیوا کانفرنس میں پاکستان کا ہدف 8.15 ارب ڈالر کا تھا۔ ZS