سوات (مانند نیوز)انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخواہ اختر حیات گنڈاپور اور ریجنل پولیس آفیسر مالاکنڈ ناصر محمود ستی کے ویژن "جرائم سے پاک معاشرہ” کے عزم کے مطابق، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات شفیع اللہ گنڈاپور کے خصوصی احکامات پر تھانہ کالاکوٹ پولیس کا قتل کیس میں اہم پیش رفت قتل کو ہارٹ اٹیک کا رنگ دینے والی بیوی معشوق سمیت گرفتار کامیاب تفتیش کی بدولت ملزمہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ دوئم مٹہ کے روبرو اقبال جرم کا اعتراف کر لیاتفصیلات کے مطابق: مورخہ 2023-04-24 کو تھانہ کالاکوٹ پولیس کو راگستون میں ایک شخص مسمی شیر علی ولد دلبر جان کے موت کی اطلاع ملی جس پر ایس ایچ او تھانہ کالاکوٹ بخت اللہ خان نے ہمراہ پولیس ٹیم موقع پر پہنچ کر جنازہ کا جائزہ لیا تو جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ یہ ہارٹ اٹیک نہیں بلکہ سوجی سمجھی سازش کے تحت کسی زہریلہ شے سے قتل کیا گیا ہو۔ جس پر میت کو بغرض پوسٹ مارٹم ہسپتال بجھوایا گیا جس سے پتہ چلا کہ مقتول کو زہر دے کر مارا گیا ہے۔ پولیس نے مقتول کے والد کے مدعیت پر رپورٹ درج رجسٹر کر کے تفتیش شروع کی۔ ابتدائی تفتیش کے دوران پولیس ٹیکنیکل طریقے سے مقتول کی بیوی مسماۃ(د) کو انٹاروگیٹ کرنا شروع کیا جس پر انہوں نے اقبال جرم قبول کرتے ہوئے بیان کیا کہ اس نے اپنے شوہر کو اپنے معشوق مسمی محمد ولد شمس الرحمان جو کہ اس کا قریبی رشتہ دار بھی ہے اور جس کہ ساتھ اس کا پچھلے 06 مہینوں سے ناجائز تعلقات ہے اور دونوں نے مقتول کو راستے سے ہٹانے کے لئے وقوعہ کے رات زہریلی دوا شربت میں ملا کر مار ڈالا ہے۔ پولیس نے مقتول کی بیوی اور اسکی معشوق کے خلاف مقدمہ درج رجسٹر کرکے دونوں کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مقتول کی بیوی نے آج جوڈیشل مجسٹریٹ مٹہ کے سامنے اپنے اقبال جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ترجمان سوات پولیس