اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کو سمجھ لینا چاہیے کہ انہوں نے نظام کے اوپر جو خودکش حملہ کیا تھا وہ ناکام ہو گیا ہے اور ان کی خودکش جیکٹ ناکارہ ہو گئی ہے اوروہ جو کرنا چاہتے تھے وہ نہیں کرسکے۔ عمران خان سمجھتے تھے کہ میں 25مئی کو دارالحکومت کا گھیرائو کر کے الیکشن کی تاریخ لوں گاوہ نہیں لے سکے، انہوں نے کوشش کی کہ انسانوں کاسمندر لا کر الیکشن کی تاریخ لیں گے وہ نہیں لے سکے۔ میں اسمبلیاں توڑ کر یا خود کش حملہ کر کے تاریخ لوں گا،نہیں لے سکے۔ عام انتخابات سر پر ہیں اورعمران خان نے جو پہلے غلطیاں کی ہیں انہیں دوبارہ نہیں دہرانی چاہئیں اورمذاکرات کے ذریعے جونہی اسمبلیوں کی مدت پوری ہوتی ہے الیکشن کروائیں۔ سوچنے اورکرنے والی بات یہ ہے کہ کس طرح صاف اورشفاف الیکشن ہوں گے اوران کے نتائج کو ہارے والا بھی تسلیم کرے اورجیتنے والا بھی تسلیم کرے۔ 12جولائی اور13اگست کی میرے خیال میں کوئی اہمیت نہیں۔ان خیالات کااظہار رانا ثناء اللہ خان نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ رانا ثناء اللہ نے کہاکہ اگرسابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کہتے ہیں کہ ان کی لیک ہونے والی آڈیو من گھڑت ہے اوریہ ان کے اوپر الزا م ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو سامنے لائیں، ہم ان کی آواز سے کنفرنٹ کروا کراس کا فارنزک آڈٹ کروا لیتے ہیں اگر اصل ہوئی توپھراس کا جواب وہ دیں اوراگر یہ من گھڑت ہوئی توپھر انہیں باقاعدہ سرٹیفکیٹ جاری ہوجائے گا یہ من گھڑت ہے اوروہ سرخروہوجائیں گے۔ اس طرح سے سودے کرنااوراس طرح سے پیسے لینا کون سی پرائیویٹ گفتگو ہے۔رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے سربراہان کی جو میٹنگ ہوئی ہے اوراس میں جو گفتگو ہوئی ہے اس میں یہ بات توطے ہے کہ الیکشن ایک دن ہونے چاہئیں، ایسا نہیں ہے کہ پانچ اسمبلیوں کا الیکشن رواں سال ہونا ہے اوراس میں سے ایک کا الیکشن پہلے کروادیں اور باقی چار کا کہیںکہ ہم دومہینے بعد کرائیں گے۔ مجھے پی ٹی آئی رہنمائوں کے بیانات سے بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی اس بات کی افادیت کو محسوس کرتے ہیں اوروہ بھی سمجھتے ہیں کہ الیکشن ایک دن ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ مئی میں اسمبلیاں تحلیل کردیں اور ہم کہہ رہے ہیں کہ بجٹ دے کر اسمبلیوں کو تحلیل کیا جائے، بات توساری ایک ڈیڑھ ماہ کی ہے، طرفین میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو کہا جاسکے کہ یہ معاملہ حل طلب نہیں، یہ معاملہ حل ہونا چاہیے۔روایت یہی ہے کہ بجٹ 30جون کو دیا جاتا ہے اور اگر 30جون کو بجٹ دیا جائے اوراگلے ہفتے 10دن میں اس کے نفاذ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ 13اگست کو توتمام اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرکے تحلیل ہورہی ہیں، قومی اسمبلی کو تحلیل کروانے میں تو (ن)لیگ بنیادی اہمیت رکھتی ہے لیکن سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کو توہم تحلیل نہیں کراسکتے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کوئی بھی صوبائی حکومت یا صوبائی پولیس اس بات کی پابند نہیں ہوتی کہ وہ اپنے آپریشنز کے حوالے سے کوئی پیشگی اطلاع دے یا وفاقی حکومت سے کوئی اجازت حاصل کرے ماسوائے اس کے کہ انہیں کسی آپریشن کے لئے انہیں وفاقی فورسز کی ضرورت ہوتواس میں پھروہ باقاعدہ لکھ کر دیتے ہیں کہ ہمیں آپریشن کے لئے ہمیں ایف سی کی یارینجرز کی ضرورت ہے تووہ چیز ہمارے نوٹس میں ہوتی ہے،چوہدری پرویز الٰہی کے گھر جو آپریشن ہوا ہے وہ پہلے سے میرے نوٹس میں بالکل نہیں تھا، مجھے میڈیا کے ذریعے آپریشن شروع ہونے کا پتا چلااورموقع کے اوپر جو طاقت کا استعمال کیا گیا اس حدتک بات مناسب نہیں لگ رہی تھی، میں نے فوری طور رپر سی سی پی اولاہور سے رابطہ کی کوشش کی تاہم ان کا نمبر بند تھا اورآدھے گھنٹے بعد انہوں نے مجھے بتایا کہ میں مدینے میں ہوں، میں نے اس دوران کوشش تو کی کہ آئی جی پنجاب پولیس اوردیگر اعلیٰ حکام سے رابطہ ہو اوران سے اس حوالے سے معلومات لی جائیں لیکن میرارابطہ کسی سے ہو نہیں سکا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آپریشن کے ذمہ دار تووہی لوگ ہیں جو موقع پر موجود تھے، اگر انہوں نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا ہے تواُس کے بھی وہی ذمہ دار ہیںیا ان کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے کہ انہیں یہ ساراکچھ کرنے کی کیوں ضرورت پڑی، ایک روٹین میں آپ کسی کا گیٹ توڑیں اورگھر میں داخل ہوں اس کی ضرورت نہیں ہوتی، جمعہ کے روز چوہدری پرویز الٰہی باہر گھومتے رہے ہیں اور ایک دوجگہ پر میں نے انہیں میڈیا پر دیکھا اور وہاں پر انہیں بڑی آسانی سے گرفتار کیا جاسکتا تھا،اتنا آپریشن کو مشکل بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوںنے کہا کہ پنجاب کی نگران حکومت اور پنجاب پولیس براہ راست تووزارت داخلہ کے ماتحت نہیں ہے بلکہ وہ وزیر اعظم کے بھی ماتحت نہیں ہے۔ جب چوہدری پرویزالٰہی وزیر اعلیٰ تھے تواسی اینٹی کرپشن محکمہ نے میرے باقاعدہ وارنٹ گرفتاری نکال دیئے تھے اور باقائدہ ایک ٹیم اسلام آباد کے تھانے میں بھجی گئی کہ ہمیں پولیس کی مدد دیں ہم وزیر داخلہ کو گرفتارکرنا چاہتے ہیں، اس لئے اینٹی کرپشن محکمہ پنجاب کی نگران حکومت یا پنجاب پولیس اپنے انتظامی امور میں نہ تو براہ راست وزیر اعظم اورنہ ہی وزارت داخلہ کے ماتحت ہے، یہ جو ہوا وہی ذمہ دار ہیں جو اچھا کیا تب بھی ان کا کریڈٹ ہے اوراگر کچھ غلط ہواتوبھی ان کے کھاتے میںہے۔ انہوںنے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کو بھی پتا ہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم اور چوہدری پرویز الٰہی کے گھر آپشن کا کوئی آپس میں تعلق واسطہ نہیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے