پاراچنار (مانند نیوز)ضلع کرم کے زیڑان قبائل نے آٹھ افراد کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور قاتلوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیازیڑان قبائل کے ہزاروں افراد نے پاراچنار شہر تک پیدل احتجاجی مارچ کیا پریس کلب پہنچنے پر احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی رہنما سید محمد سید اخلاق حسین ماسٹر گلفام حسین لطیف حسین ارشاد بنگش علامہ منیر حسین حاجی عابد حسین اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ جمعرات کے روز نامعلوم افراد کے ہاتھوں ایک شخص کے قتل کے بعد مسلح افراد ہائی سکول تری منگل میں گھس گئے اور چار اساتذہ اور تین ڈرائیور قتل کردئیے تینوں ڈرائیوروں کا تعلق زیڑان قبائل سے تھا رہنماؤں کا کہنا تھا کہ زیڑان قبائل کا کسی کیساتھ کوئی زمینی تنازعہ نہیں اس لئے بعض آفسران کی جانب سے بے گناہ افراد کے قتل کو زمینی تنازعہ قرار دینا افسوس ناک ہے رہنماوں نے قتل کے وقت سکول میں موجود ملازمین کے خلاف بھی مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بے گناہ افراد کے قاتلوں کو سزا نہ دی گئی تو وہ احتجاجی تحریک شروع کریں گے رہنماؤں نے مشیر تعلیم اور سیکٹری تعلیم کی بے حس پالیسی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ محکمہ تعلیم کے افسران نے اساتذہ کے جنازوں میں شرکت تک گوارہ نہ کی