اسلام آباد(مانند نیوز) القا در ٹرسٹ180 ملین پاونڈ گھپلہ کیس میں عمران خان کی ضمانت منظور.اسلام آباد ہائی کورٹ نے القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں عمران خان کی 2 ہفتوں کے لیے ضمانت منظور کر لی۔خصوصی بینچ کی تشکیل؛عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ میں مبینہ کرپشن کے کیس کی سماعت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے خصوصی ڈویژن بینچ تشکیل دیا ہے جو جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل ہے۔
عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل؛عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری اور حفاظتی ضمانت کی درخواست ہے، ہم نے ایک اور درخواست میں انکوائری رپورٹ کی کاپی مانگی ہوئی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ نیب کو انکوائری رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کا حکم دیا جائے، نیب کی انکوائری رپورٹ کا اخبار سے پتہ چلا، انکوائری اگر انویسٹی گیشن میں تبدیل ہو تو صرف اسی صورت وارنٹ جاری ہو سکتے ہیں، وارنٹ کے اجراء کی وجہ بتائی گئی کہ مسلسل نوٹسز کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ انویسٹی گیشن اسٹارٹ ہوتے ہی گرفتاری کی کوشش کی گئی، نیب قانون کے مطابق انکوائری رپورٹ فراہم کرنے کا پابند ہے، یہ انکوائری رپورٹ کورٹ آف لاء میں چیلنج کرنے کا حق بھی رکھتا ہوں، اسی وجہ سے نیب پر انکوائری رپورٹ فراہم کرنا لازم ہے، عمران خان کی گرفتاری کے بعد انکوائری رپورٹ فراہم کر دی گئی، میں نے انکوائری رپورٹ نہیں دیکھی کیونکہ عمران خان قید میں تھے، میں نے انکوائری رپورٹ نہیں دیکھی کیونکہ عمران خان قید میں تھے۔
عمران خان کے وکیل نے کہا کہ 28 اپریل کو انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کیا گیا، 2 کال اپ نوٹسز کا جواب بھی جمع کرایا، جواب دیا کہ کال اپ نوٹسز قانون کے مطابق نہیں ہیں، یہ بتانا ضروری ہے کہ متعلقہ شخص کو کس حیثیت میں بلایا گیا ہے؟ بطور گواہ بلایا جا رہا ہے یا بطور ملزم؟ اگر بطور ملزم بلایا جا رہا ہے تو الزامات کی تفصیل دینا ضروری ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے سوال کیا کہ آپ کو نوٹس کے ساتھ کوئی سوالنامہ نہیں دیا گیا، کیا آپ نے نیب آفس وزٹ کیا؟
خواجہ حارث نے جواب دیا کہ اس کیس میں کوئی سوالنامہ نہیں دیا گیا، وہ توشہ خانہ کیس الگ ہے، نیب آفس اس لیے وزٹ نہیں کیا کیونکہ کال اپ نوٹس غیر قانونی ہے، تفصیلی جواب میں اعتراضات اٹھائے جس کے بعد دوبارہ نوٹس نہیں ملا۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے دلائل
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹر جہانگیر جدون نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو پٹیشن یہاں دائر کی گئی اس کے لیے متبادل فورم موجود ہے، رٹ پٹیشن میں یہ معاملہ ہائی کورٹ لانے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں، آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا گیا ہے، جس طرح کے پُر تشدد واقعات ہوئے اس کے بعد فوج کو طلب کیا گیا۔