ہنگو(مانند نیوز) سیاسی جماعتیں پر امن احتجاج کے بنیادی حق کو استعمال کریں، ریاستی املاک و نجی املاک کو نقصان پہنچانا جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے، ائین و قانون کے اصول پر عمل درآمد سے ہی ملک موجودہ بحرانی کیفیت سے باہر نکل سکتا ہے، جلاو گیراو کی سیاست ملک و قوم کے مفادات سے متصادم ہے، سیاسی، جمہوری اور پارلیمانی طرز عمل سیاست دانوں اور ورکرز کے شایان شان ہے، ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈہ ہی ملک کو۔کمزور کرنا ہے ان خیالات کا اظہار سابق ایم پی اے حاجی عتیق الرحمان، ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت حافظ عبدلہادی اورکزئی، حاجی عزت گل، زہ ولی شاہ نے پاکستان ہاوس میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ائین و قانون ہمیں پر امن احتجاج کا حق دیتا ہے مگر اس احتجاج کی آڑ میں حساس مقامات، ریاستی مشنری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانا، راستے بند کرنا، عملی زندگی۔مفلوج بنانا اور جلاو گھیراو کرنا کسی طور۔لک و وطن سے محبت نہیں بلکہ یہ طرز عمل ملک دشمن قوتوں کی خواہشات کو تقویت پنچانے کا باعث بن رہا ہے، حاجی عتیق الرحمان، حافظ عبدالہادی اور کزئی، حاجی عزت گل اور دیگر نے کہا کہ جمہوری قوتوں کا ہر عمل جمہوری طرز عمل کا عکاس ہوتا ہے، اور سیاسی جماعتوں کی۔لیڈر شپ کا اولین فرض ورکرز کی کردار سازی ہوتا ہے مگر بد قسمتی سے سیاست میں بد اخلاقی اور عدم برداشت کے رویوں کو تقویت دی جا رہی ہے اور دانستہ و غیر غیر دانستہ اس سے ملک کی عالمی سطح پر بھی بدنامی ہو رہی ہے اور وطن مشکلات سے بھی دوچار ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہر احتجاج کے اصول متعین ہیں جن کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔اس لیے جلاو گیراو اور ریاست اداروں کے خلاف زبان درازی، سرکاری املاک کو نظر اتش کرنے اور عملی زندگی کو مفلوج کرنے کے اقدامات کی ہر سطح پر مزمت کرتے ہیں۔حقیقت میں یہ ریاست کا نہیں بحثئت قوم ہم سب کا نقصان ہے، حاجی عتیق الرحمان، حافظ عبدالہادی اورکزئی اور دیگر نے کہا کہ احتجاج کے دوران سیکورٹی اداروں اور ریاستی مشنری نے انتہائی تحمل اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا جو لائق ستائش ہے۔حافظ عبدلاہادی اور حاجی عتیق الرحمان نے کہا کہ ہنگو، اورکزئی اور قبائلی اضلاع کے عوام وطن اور اسلام سے محبت کرتے ہیں اور انتہائی ذمہ دارانہ کردار کے حامل ہیں۔اور وہ بھی ملک میں پائیدار امن اور سیاسی و سماجی استحکام کے خوایش مند ہیں ایسے میں تمام سیاسی جماعتوں، قومی لیڈر شپ اور ورکرز کو دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ائین و قانوں کے تابع رہ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہیے۔