لکی مروت(نمائندہ مانند) پولیو مہمات کی کامیابی کیلئے صحافیوں کو باقاعدہ طور پر شامل کیا جائے تاکہ معاشرے میں پائی جانے والی افواہوں کو موثر طور پر زائل کیا جاسکے۔پولیو کے حوالے سے صحافیوں کے لئے آگاہی سیشن پروگرام کے موقع پر ڈسٹرکٹ پریس کلب لکی مروت کے صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو بریفنگ دیتے ہوئے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر۔ یونیسیف کے ڈاکٹر شہاب ہاشم، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لکی مروت ڈاکٹر عبدوگل وزیر، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر لکی مروت سلطان نور الدین احمر، یونیسیف کے ایس بی سی آفیسر سہیل خان اور صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب لکی مروت غلام اکبر مروت اور دیگر نے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم لازمی ایمونائزیشن کے حفاظتی ٹیکہ جات کو اہمیت دیتے تو ہم کب کے پولیو کو ملک سے ختم کر چکے ہوتے۔ڈسٹرکٹ پریس کلب لکی مروت کے صدر غلام اکبر مروت نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی اصلاح میں صحافی کا کلیدی کردار ہے۔ جس سے ہم باخبر ہیں یہی وجہ ہے کہ ضلع لکی مروت میں ہمیشہ ذمہ دارانہ رپورٹنگ ہوتی ہے۔ خبروں میں کسی قسم کی سنسنی خیزی نہیں پھیلائی جاتی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ پولیو مہمات کی کامیابی میں صحافیوں کو باقاعدہ طور پر شامل کیا جائے تاکہ معاشرے میں پائی جانے والی افواہوں کو موثر طور پر زائل کیا جاسکے۔پولیو وائرس میں افغانستان اور پاکستان سرفہرست ہے دنیا میں بد قسمتی سے یہ دو ممالک میں پولیو کا وائرس ابھی تک موجود ہے۔ پاکستان میں اس وقت سب سے خطرناک ضلع ہمارا لکی مروت ہے۔ جہاں 1 لاکھ 96 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے وائرس کا خطرے کا سامناہے۔حال ہی میں غوڑہ بکاخیل بنوں میں پولیو وائرس کا کیس سامنے آیا ہے۔ پاکستان کو پولیو فری ملک بنانے کے لئے ہم سب نے اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ ہم ائندہ پولیو مہمات میں سو فیصد بچوں تک پہنچ سکیں۔دیگر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم لازمی ایمونائزیشن کے حفاظتی ٹیکہ جات میں پولیو کے علاوہ ہم اپنے بچوں کو بارہ دیگر خطرناک بیماریوں سے بھی بچا سکتے ہیں۔ دنیا کی نظریں اس وقت ہم پر اس لئے لگی ہوئی ہیں کہ ماحولیاتی نمونوں میں یہاں پولیو کا وائرس موجود ہے۔اس وقت افغانستان میں تین اور پاکستان میں پولیو کا ایک تازہ کیس سامنے آنے سے دنیا کیلئے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ اس بار پولیو کے قطروں کے ساتھ آئی پی وی یعنی انجکشن کے ذریعے پولیو ویکسین لگایا جائے گا جو نہایت مفید ہے۔مقررین نے مزید کہا کہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ عوام اپنے سوشل مسئلوں کے حل کو پولیو مہمات سے مشروط کر دیتے ہیں۔ جو سراسر غلط ہے یہ لوگ اپنے بچوں کی زندگی داؤ پر لگاتے ہیں۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ ہم میڈیا کے ذریعے والدین تک یہ پیغام پہنچائیں کہ وہ اپنے بچوں کو ہر صورت پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں کیونکہ خدانخواستہ اگر ایک بار بچے کو پولیو کے وائرس نے متاثر کیا تو ساری عمر کے لئے آپکا بچہ جسمانی معذور ہوگا اور دوسروں کا بوجھ اٹھانے والا خود معاشرے اور خاندان پر بوجھ ہوگا۔ڈی ایچ او لکی مروت ڈاکٹر عبدوگل وزیر نے کہا کہ 29مئی سے ہماری خصوصی پولیو مہم شروع ہورہی ہے جو 6 جون تک جاری رہے گی۔اس مہم کے دوران ہمارا ٹارگٹ 1 لاکھ 96 ہزار سے زائد بچے ہیں۔ جس کے لئے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں میڈیا کو اس حوالے سے عوام کی ذہن سازی کرنے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔