ڈیرہ اسماعیل خان (مانند نیوز)محکمہ تعلیم میں بڑے پیمانے پر گھوسٹ ملازمین کی موجودگی کا انکشاف اینٹی کرپشن کی کارروائی ایک درجن کے قریب گھوسٹ ملازمین شکنجے میں آگئے حاضری کے بغیر تنخواہیں لینے کا انکشاف ملکی خزانے کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگا دیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں سب ڈویژن محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین کی موجودگی کے انکشاف پر محکمہ اینٹی کرپشن کی آڈٹ ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ڈائریکٹرھ اینٹی کرپشن خیبر پختونخواہ عارف اللہ خان کی ہدایت پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سیف الرحمن خان اور سرکل آفیسر منہاج سکندر خان بلوچ نے تحقیقات کا آغاز کیا تو معلوم ہوا کہ محکمہ تعلیم ڈیرہ میں 2007سے 2014کے دوران متعدد گھوسٹ ملازمین بھرتی کیے گئے ہیں۔ یہ گھوسٹ ملازمین دیگر اضلاع میں غیر قانونی طور پر بھرتی ہوئے اور پھر غیر قانونی طریقے سے ہی ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹرانسفرھ ہو کر آ گئے یہ تمام تر کارروائی بوگس طریقے سے ہوئی اور یہ گھوسٹ ملازمین دفتروں اور سکولوں میں بغیر حاضری کیے تنخواہ وصول کرتے رہے جس سے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ ان ملازمین نے جعلی طریقے سے پیسے نکالے اور حکومتی خزانے کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔ اینٹی کرپشن کی تحقیقات کے مطابق ابھی مزید بھی کچھ ایسے لوگوں کا انکشاف ہوا ہے جو غیر قانونی اور بوگس طریقے سے محکمہ تعلیم میں بھرتی ہوئے جس پر اینٹی کرپشن نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سارے غبن کے پیچھے کئی بڑے لوگوں کا ہاتھ ہے جن کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن نے شکنجہ تنگ کر دیا ہے۔