بٹ خیلہ (مانند نیوز) سابق صوبائی وزیر شکیل خان کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ نے تھری ایم پی او میں ان کے تین ساتھیوں سمیت رہائی کا حکم دیا تاہم ملاکنڈ لیویز نے شکیل خان کو سوات جیل سے ایک دوسری ایف آئی آر میں حراست میں لے لیا اور بٹ خیلہ مجسٹریٹ سے ان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کرلیا۔ دوسری جانب دلچسپ اور حیران کن طور پر ان کے تین ساتھیوں پی ٹی آئی کے ضلعی جنرل سیکرٹری مقبول الرحمن، تحصیل تھانہ بائیزئی کے صدر جمال حسین اور ویلج چیئرمین شہاب غنی نے رضاکارانہ طور پر ضمانتی مچلکے جمع نہ کرنے اور رہا نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کا مقصد جیل میں اپنے لیڈر شکیل خان کا ساتھ دینا اور اور انہیں دوستانہ ماحول فراہم کرنا ہے۔ آخری اطلاع تک انہوں نے ضمانتی مچلکے جمع نہیں کرائے یہ تینوں تاحال جیل میں ہے۔ قواعد کے مطابق کوئی قیدی ضمانت کی منظوری کے باوجود رہا نہ ہونا چاہے تو جیل سپرنٹنڈنٹ 30دن جیل میں رکھ سکتا ہے جس کے بعد سپرنٹنڈنٹ کو اس کی رہائی کا اختیار حاصل ہے۔