سخاکوٹ(مانندنیوز) سخاکوٹ شامیلات میں کسی کی مداخلت قبول نہیں جن لوگوں نے سخاکوٹ شامیلات میں غیر قانونی خرید وفروخت کی ہے انکو اسکا حسا ب دینا ہوگا۔سخاکوٹ کمیٹی کے مشران نے پہلے جو کمیٹی بنائی تھی اور انکو مختارنامے دئیے گئے تھے وہ آج سے تمام منسوخ تصور اور ناقابل قبول ہونگے۔انشاء اللہ پتاؤ شامیلات کی تقسیم بھی بہت جلد ان چاروں اقوام میں تقسیم ہوگا۔ اس سلسلے میں سخاکوٹ کے چاراقوام شلمانی، خٹک، ملی خیل ازی خیل اور سہ سدہ کے مشرا ن کاایک اجتماع زیر صدارت چیئرمین بختی زمان بمقام ملاخیلہ سخاکوٹ حجرہ کاشف خان منعقد ہوا جس میں چاروں اقوام کے سرکردہ مشران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین ماسٹر حق نوازشلمانی، کاشف خان نمائندہ چارکندی جات، حاجی لیاقت علی، نیک محمد خان، یار محمد خان،افتخار خان اور سیٹلمنٹ آفیسر شہزاد خان نے کہا کہ ضلع ملاکنڈ میں بندوبست 2019سے شروع ہوا ہے اور اس سلسلے میں بندوبست والوں نے لوگوں میں اگاہی مہم بھی چلائی تھی تاکہ لوگوں میں بندوبست کے حوالے سے اگاہی ہو مگر اس کے باوجود اصل مالکان اور بندوبست والوں کے مابین رابطوں کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ابھی تک بندوبست پر صرف ساٹھ فصید کام ہوا ہے اور چالیس فیصد باقی ہے لہذا مالکان بندوبست والوں کیساتھ رابطے تیز کریں پہلا اپنا شجرہ نصب کا اندراج اور بعد میں ملکیتی جائیداد کا اندارج کریں۔مقررین نے کہا کہ ملکیتی جائیداد میں جن لوگوں نے سخاکوٹ شامیلات میں اراضی خریدی ہے وہ مالکان کمیٹی کے ساتھ مل بیٹھ کر مسئلہ افہم وتفہیم سے حل کریں سخاکوٹ کمیٹی کے مشران زرخرید والوں کیساتھ ہر قسم تعاون کریگی۔سخاکوٹ شامیلات میں جن لوگوں نے زمین خریدی ہیں اس سے کئی گنازیادہ پر ناجائز قبضہ کیا ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے کیونکہ شامیلات اراضی میں یتیموں، بیواؤں اور بے اسراخاندانوں کا بھی برابر کا حصہ ہے جس پر کسی قسم کے قبضے یا غیر منصفانہ تقسیم کی اجازت نہیں دینگے۔اس موقع پر ایک قرارداد بھی منظور ہوا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قران مجید کی بیحرمتی پر حکومت سویڈن سے سفارتی تعلقات ختم کریں اورانکے سفیر کو ملک بدرکریں