وانا (مانند نیوز) اسلامی جمعیت طلبہ لوئر وزیرستان نے کالج کی بحالی کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جسمیں جنوبی وزیرستان لوئر کے سیاسی جماعتوں، مشران، نوجوانان، وکلاء برادری و دیگر نے کثیر تعداد میں شرکت کی، مقررین نے گورنمنٹ کالج وانا کی بحالی پر تفصیلی بات چیت کی، مقررین نے کہا کہ گورنمنٹ کالج وانا کی بحالی ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مشترکہ طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائیں کہ وہ پرنسپل سے باقاعدہ مشاورت کے بعد اس پر کام کریں، اور کالج وانا کو بحال کیا جائے۔مقررین نے کہا کہ ضلع جنوبی وزیرستان لوئر صوبہ خیبرپختونخواہ پاکستان کا ایک دور دراز اور پسماندہ ضلع ہے۔ ضلع جنوبی وزیرستان لوئر وزیر، دوتانی اور سلیمان خیل قبیلوں پر مشتمل ہیں۔ یہ علاقہ انتہائی خوبصورت ہے۔ یہاں کے چلغوزے، میوے اور سبزیاں ملک بھر میں مشہور ہیں۔ ضلع جنوبی وزیرستان لوئر اور اپر کا کل رقبہ 6619 مربع کلومیٹر ھے۔ 2023 ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع لوئر کی آبادی 410879 افراد پر مشتمل ہیں۔ یہاں مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے۔مقررین نے کہا کہ ضلع جنوبی وزیرستان لوئر کی تمام آبادی زیادہ تر دیہی علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کی 97 ٪ آبادی پشتو زبان بولتی ہے۔ ضلع جنوبی وزیرستان لوئر میں صرف 362 افراد کا تعلق اقلیتی برادری سے ہے۔ یہاں کا موسم سردیوں میں سرد ترین اور گرمیوں میں معتدل ہوتا ہے۔ جنوبی وزیرستان لوئر کے لوگ بہت محنتی اور جفا کش ہیں۔ یہ علاقہ ایک عرصہ تک جنگی حالات میں رہا ہے۔ مقررین نے کہا کہ 1947 سے پہلے اور 1957 تک جنوبی وزیرستان میں شرح خواندگی 2.9 ٪ تھا۔ دو لاکھ بتیس ہزار پانچ سو دو (232502) پاپولیشن میں صرف 6765 افراد خواندہ تھے۔ وزیر قوم میں صرف اور صرف 351 افراد پڑھے لکھے تھے۔ اس وقت وزیر کی ابادی تقریباً 44344 ریکارڈ کی گئی تھی۔ کیونکہ زیادہ تر لوگ افغانستان میں مقیم تھے یا یہ خانہ بدوش تھے۔ 1947 سے پہلے وزیرستان میں کوئی ہائی اسکول موجود نہیں تھا صرف 8 پرائمری سکول موجود تھے۔ 1947 کے بعد 1957 تک جنوبی وزیرستان میں 3 ہائی اسکول، 5 مڈل سکول 64 پرائمری سکول 1 ٹیچنگ ٹریننگ سینٹر بنا دیئے گئے۔ 1957 کے بعد پرائمری سکول کی تعداد بڑھا کر 1969 تک 800 کر دی گئی۔ اس فیگر میں لڑکیوں کی شرح خواندگی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہیں۔مقررین نے کہا کہ 75 سالوں میں ابادی تین گناہ زیادہ ہو گئی مگر بدقسمتی سے شرح خواندگی میں خاطر خواہ اضافہ نہ کر سکے۔ موجودہ دور میں خواندگی کی شرح 35 فی صد ھے۔ مردوں میں خواندگی کی شرح 51 فی صد جبکہ عورتوں میں خواندگی کی شرح صرف 17 فی صد ھے۔ اس وقت تقریبا 410879 ابادی کے لئے صرف اور صرف ایک گورنمنٹ ڈگری کالج اور ایک گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج موجود ہے۔مقررین نے کہا کہ گورنمنٹ ڈگری کالج وانا کا قیام 1974 میں لایا گیا جو تقریباً 300 کنال پر مشتمل ھے، گورنمنٹ ڈگری کالج وانا نے پروفیسرز، انجنیئرز، اور ڈاکٹرز پیدا کیے ہیں لیکن وار ان ٹیرر کے بعد کالج کے حالات دیگرگوں ہوگئے ہیں یہاں کے مقامی بچے دور دراز علاقوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو والدین پر اس منہگائی کے دور ميں بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ آج کا تعلیمی سیمنار کا مقصد والدین اور طلباء میں گورنمنٹ ڈگری کالج وانا کی افادیت کو اجاگر کرنا ہیں تاکہ والدین اپنے بچوں کی حاضری کو یقینی بنائے اور پرنسپل اور سٹاف کے ساتھ اس حوالے سے تمام مکاتبِ فکر تعاون کریں۔مقررین نے کہا کہ تقریباً پانچ لاکھ ابادی میں ہر سال پانچ ہزار سے زائد طلبہ و طالبات میٹرک مکمل کرکے کالج جانا چاہتے ہیں مگر بدقسمتی سے اتنی بڑی ابادی کے لئے صرف ایک بوائز ڈگری کالج اور ایک گرلز ڈگری کالج جو مکمل ویران و غیر فعال پڑے ہیں۔ ہم اہلیان جنوبی وزیرستان لوئر ضلعی انتظامیہ سے گورنمنٹ ڈگری کالج وانا کوفعال اور مسائل حل کرنے میں مکمل تعاون کا یقین دہانی کے ساتھ عملی اقدامات چاہیے۔مقررین نے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کیلئے ترقی کی ضامن ہے۔ تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گیا ہے تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ سرکاری سکول کے اساتذہ کرام کو چاہئے کہ وہ اپنے ڈیوٹی کو اچھی طرح سرانجام دیں، تاکہ سرکاری سکولز دوبارہ فعال ہو جائیں۔مقررین نے کہا کہ اگر کوئی بھی قوم چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے تو ان کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں، آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے وہ صرف علم کی بدولت کی ہے مقررین نے کہا کہ تعلیم کی کیا اہمیت ہے اوران کا حصول کتنی ضروری ہے۔ جو لوگ معاشرے میں تعلیم حاصل کرتے ہوں وہ دینی ہو یا دنیاوی اس انسان کا معاشرہ کے اندر اور اپنے گھر کے اندر ایک الگ مقام ہوتا ہے ایک نوجوان بچے کا قدر بزرگ لوگ صرف تعلیم کی وجہ سے کرتے ہے توہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائے گا جو جدید علوم سے اگاہی رکھتے ہے۔انہوں نے حکومت کے سامنے چند مطالبات پیش کئے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج وانا میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے طلبہ کی حاضری یقینی بنایا جائے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج وانا کو پوسٹ گریجویٹ ٹیچنگ اسٹاف دیا جائے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج وانا کے کلاس فور اور کلیریکل سٹاف پورا کیا جائے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج وانا کو مکمل سولرائز کیا جائے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج وانا کے لئے ٹرانسپورٹ مہیاں کی جائے گورنمنٹ ڈگری کالج وانا کے نئے ہاسٹل پر کام تیز کی جائے اور پرانے ہاسٹل کومرمت کرکے سولرائز کیا جائے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج وانا کو جدید ڈیجیٹل لائبریری دی جائے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے