اپر چترال(نما ئندہ مانند گل حماد فاروقی)اپر چترال بونی سے پرکھوسپ جاتے ہوئے پوٹھوہار گاڑی پرواک کے مقام رورومو ٹیک میں حادثے کا شکار ہوکر گہری کھائی میں جاگری، ریسکیو1122 کو اطلاع ملنے پر ریسکیو1122 کی ٹیموں دو زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم ہسپتال بونی منتقل کر دیا، حادثے کے نتیجے تین افراد جان کی بازی ہار گئے اور دو شدید زخمی ہو گئے، زخمیوں اور ڈیڈ باڈیز کو ریسکیو1122 کے ایمبولینس میں تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال بونی منتقل کیا گیا، جانبحق ہونے والے افراد میں ایک خاتون بھی شامل ہے، ابتدائی معلومات کے مطابق گاڑی اپر چترال بونی سے پرکھوسپ جارہی تھی کہ پرواک کے مقام پر حادثہ پیش آیا۔واضح رہے کہ چترال سے بونی تک کا سڑک چالیس سال پہلے چین کے ایک تعمیراتی کمپنی نے تعمیر کیا تھا اور اس پر اتنی مضبوط تارکول ڈالا تھا کہ چالیس سالوں میں یہ حراب نہیں ہوی تھی۔ تاہم دو سال قبل نیشنل ہای وے اتھارٹی کے ٹھیکدار عمرجان اینڈ کمپنی نے اس پختہ سڑک سے یہ مضبوط تارکول صرف اسلیے اکاڑ دیا کہ ان کو تارکول اکاڑنے کے پیسے ملتے ہیں اور بعض ایسی جگہہوں سے بھی تارکول اکاڑدیا جہاں نہ سڑک کو کشادہ کرنا تھا نہ اس میں کوی کام کرنا تھا مگر پیسوں کے حاطر ایسی جگہوں سے بھی تارکول اکاڑ کر اسے لاوارث چھوڑا۔ اب یہ پختہ سڑک کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے اور ایے روز اس قسم کے حادثات میں قیمتی جانیں ضایع ہوتی ہیں۔ چترال کے عوام نے اس کیلیے بار بار اواز بھی اٹھایا مگر اس کمپنی کے مالک کو بعض وفاقی وزراء کی اشیر باد بھِی حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ اج تک کسی نے ان سے پوچھا تک نہیں۔ عوام چیف جسٹس اف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ اس تعمیراتی کمپنی کے حلاف قانونی کاروای کرے کہ انہوں نے دو سال قبل پحتہ سڑک سے تارکول اکاڑ کر اس پر دوبارہ تارکول کیوں نہیں ڈالا اور اب لوگ اس سڑک پر جب سفر کرتے ہیں تو مٹی، گرد و غبار کی وجہ سے محتلف بیماریوں میں بھی مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ حادثات کا بھی شکار ہوتے ہیں۔.