وانا (مانند نیوز) پاک افغان بارڈر انگوراڈا پر کسٹم کا تعینات عملہ تجارت کو وسعت دینے کی بجائے سازش کے تحت کاروباری سرگرمیوں کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ دوسری جانب کلیئرنس ایجنٹس نے کہاکہ حالیہ تعینات ہونے والا سپرٹینڈنٹ حلیم خان بشمول کسٹم عملہ ایک بڑی سازش کے تحت انگورآڈہ بارڈر پر چالو تجارت میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں اور 13 اکتوبر کو کلیئرنس ایجنٹس نے سپرٹینڈنٹ انگور آڈہ کسٹم پر ریلیف نہ دینے کے خلاف احتجاجی دھرنے کا اعلان کیاہے۔ کلیرنس ایجنٹس نے مزید کہاکہ غلام خان کسٹم ٹرمینل پر تاجربرادری کو کافی ریلیف ملتا ہے لیکن بدقسمتی سے انگورآڈہ کسٹم پر صورت حال اس کے برعکس ہے۔ تاجربرادری نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کسٹم عملہ بالخصوص سپرٹینڈنٹ کسٹم سے متعلق مسائل حل کرنے کی بجائے تجارت میں دشواریاں پیدا کررہا ہے کیونکہ وہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ایک منظم سازش کے تحت پاک افغان بارڈر کو ناکامی کے درپے ہیں۔ واضح رہے کہ احمدزائی کے عمائدین، سیاسی قائدین اور علماء کرام پچھلے 18 ماہ سے انگوراڈا گیٹ پر تجارت بڑھانے کے لئے ہرممکن کوشش میں لگے ہوئے ہیں لیکن کسٹم حکام تجارت کو وسعت دینے کی بجائے روڑے اٹکا رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے انگوراڈہ پر موجود عملہ فوری طور پر تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔