شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ کے ڈسرکٹ ہیڈ کوارٹر الپوری،پورن،بشام، چکیسر، شاہ پور،والندر، مار تونگ اور دیگر علاقوں میں عوام نماز جمعہ کے بعد اسرائیلی ظالم کے خلاف سڑکوں پر نکل ائے ۔ زبردست احتجاجی مظاہرے ۔ اسرائیل کے خلاف شدید نعرہ بازی ۔ حکومت پاکستان سے فلسطین کی حمایت کرنے کا مطالبہ ۔ تمام جامع مساجد میں فلسطین کے مسلمانوں کی سلامتی اور جاری جنگ میں مسلمانوں کی فتح کے لیے خصوصی دعائیں جبکہ اسرائیل یہودیوں کی تباہی کے لیے دعائیں کی گئی ۔ شانگلہ ضلعی ہیڈ کوارٹر الپوری میں جماعت اسلامی کا سول سوساءٹی کے ہمراہ فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مظاہر میں جلوس کی شکل میں الپوری مین چوک سے نعروں کی گونج میں مین بازار پہنچ گئے ۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مرکزی رہنماء حاجی بخت ا فسر،حاجی شیرآمان،میاں طفیل محمد دیگر مقررین نے کہا کہ فلسطینی مسلمانوں پر جاری مظالم کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں فلسطین میں جاری بر بربیت اور مظالم کے خلاف پوری دنیا کے مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر آواز اٹھائیں تا کہ وہاں پر امن وامان قائم ہو سکے، انہوں نے کہا کہ ہم ان کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں ، دنیابھر میں مسلمانوں پر دہشتگردی کے الزامات لگائے جاتے ہیں اور زیادہ تر مسلمان ممالک تماشائی بنے بیٹھے ہیں جوافسوس کی بات ہے،مسلمان ممالک کو چاہیے کہ وہ متحد ہوکر عالمی سطح پر ان مظالم کے خلاف کھڑے ہو جائیں اور اقوام متحدہ کو اس بات پر مجبور کر ے کہ فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ دیگر ممالک میں مسلمانوں پر جاری مظالم بند کئے جائیں ۔ پورن میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی شانگلہ نجم اللہ، جنرل سیکرٹری سید غفار اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور اسرائیل کے جاہلیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اسرائیل کی اسی کھلی دہشت گردی پر خاموشی اس بات کی واضح ثبوت ہے کہ اس پوری دنیا میں اسرائیل اور اس کے حامی دہشت گرد ہیں اور ان کو کھلی چھوٹ ہےں ۔ شانگلہ کے صدر مقام الپوری احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بیت المقدس کی سرزمین فلسطین میں اب تک چار ہزار فلسطینی معصوم اور بے گناہ بچے شہید ہو چکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مسلمان فلسطینی بے گھر اور زخمی ہو چکے ہیں ۔ اس وقت واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور اقوام متحدہ اسرائیل کے حامی نظر اتے ہیں جو پوری دنیا اور اُمت مسلمہ کے لیے ایک بڑا اور کھلا چیلنج ہے ۔ ان علاقوں میں نماز جمعہ کے بعد فضائے اللہ اکبر تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ناروں سے گونج اٹھا ۔ احتجاجی مظاہروں نے جلسوں کی شکل اختیار کر لی اور ہر مسلمان فلسطینیوں اور بیت المقدس کے حق جبکہ اسرائیل کے خلاف شدید تاثرات رکھتے تھے ۔ ۔