پشاور( مانند نیوز)خیبر میڈیکل یونیورسٹی(کے ایم یو) پشاورکے کابل افغانستان میں مجوزہ کیمپس کے قیام پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا یہ فیصلہ گذشتہ روز کے ایم کا دورہ کرنے والے امارت اسلامی افغانستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی کے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے موقع پر کیا گیا۔ افغان وفد جو کہ ڈاکٹر رفیع اللہ عطاء وائس چانسلر افغانستان انٹر نیشنل اسلامی یورنیورسٹی کابل، ڈاکٹرنثار احمد ذاہد ڈین آف ایگریکلچر فیکلٹی، ڈاکٹر عبداللہ ڈین آف انجینئرنگ فیکلٹی اور حافظ سمیع الحق کو آرڈینیٹر ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ امارات اسلامی افغانستان پر مشتمل تھا نے ڈاکٹر نذر محمد ڈائریکٹر فارن آفیئرز امارات اسلامی افغانستان کی قیادت میں وائس چانسلر کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق کے ساتھ ملاقات کی جبکہ اس موقع پر کے ایم یو کے رجسٹرار انعام اللہ خان وزیر، ڈائریکٹر ایکڈیمکس ڈاکٹر ظل ھما، پروفیسر ڈاکٹر لعل محمد خٹک فوکل پرسن کابل کیمپس اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایفی لیشن اور مانیٹرنگ محمد طیب کے علاوہ دیگر شرکاء بھی موجود تھے۔ افغان وفد نے بتایا کہ افغانستان میں طویل خانہ جنگی اور جنگ وجدل کے بعد مکمل طور پر امن بحال ہوا ہے اور اب ہماری تمام تر توجہ ملک کی آبادی اور تعمیر و ترقی پرمرکوز ہے جس میں ہمیں عالمی برادری کے ساتھ ساتھ پاکستان جیسے قریبی پڑوسی اور دوست ممالک کا تعاون درکار ہے۔انھوں نے کہا کہ ملک میں امن کی بحالی کے بعد ہماری ترجیح تعلیم و تدریس، صحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی، انفراسٹرکچر کی بحالی اور روزگار کے وسیع مواقع کی فراہمی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کی مدد کی ہے اور آج ہم اسی سلسلے میں کے ایم یو کے دورے پر آئے ہیں۔ وفد نے کہا کہ افغانستان کو طب، پبلک ہیلتھ، انجینئرنگ اور زراعت کے شعبوں میں ماہر ین کی فراخدلانہ امداد کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ صوبے کی واحد میڈیکل یونیورسٹی ہونے کے ناتے کے ایم یو طبی تعلیم کے مختلف شعبوں مثلاً میڈیکل،فارمیسی، فزیو تھراپی، نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز میں ہماری بھر پور راہنمائی اور مدد کر سکتی ہے جس کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا جائے گا۔ اس موقع پر کے ایم یو کے وائس چانسلر نے افغان وفد کو کابل میں کے ایم یو کے مجوزہ کیپس کی اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم یو اس کیمپس کی تیاری کے لئے تمام درکار ضروری دستاویزی اور قانونی ضروریات پوری کر چکا ہے اور اب یہ افغان حکومت پر منحصر ہے کہ وہ ہمیں کب اور کون سی جگہ مجوزہ کیمپس کے آغاز کے لئے فراہم کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کے ایم یو کے وفد نے گذشتہ سال کابل کے دورے کے موقع پر مجوزہ کیمپس کے لئے جن مقامات کی نشاندہی کی تھی ان میں کوئی بھی مقام اس پراجیکٹ کی شروعات کے لئے موزوں ہوگالہٰذا توقع ہے کہ افغان حکومت ہمیں فی الفور کوئی مناسب مقام فراہم کرکے اس کیمپس کو عملی جامہ پہنانے میں اپناکردار ادا کرے گی۔ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ اس منصوبے کے آغاز سے افغان طلباء کو انکی دہلیز پر طبی تعلیم کے مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ کے ایم یو کی بین االاقوامی طورپرتسلیم شدہ ڈگری کے حصول کے مواقع بھی دستیاب ہونگے۔ اس پر افغان وفد نے یقین دلایا کہ وہ اس ضمن میں جلد افغان حکومت اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے بات کریں گے اور اس مفید منصوبے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں گے۔ #