وانا (مانند نیوز) پاکستان میں عرصہ دراز سے غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کو اپنے ملک واپس بھیجنے کا عمل جاری ہے، ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر محمد ناصر کا کہنا ہے، 15 اکتوبر سے لیکر 31 اکتوبر تک پاک افغان بارڈر انگور اڈہ کے راستے 1209 افغانیوں کو باعزت طور پر رخصت کیا گیا ہے۔واپس جانے والوں میں مرد خواتین اور چھوٹے بچے شامل تھے۔ ڈی سی نے کہا کہ یہ وہ افغانی ہیں، جو پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے، پچھلے ایک ماہ قبل ریاست پاکستان نے فیصلہ کیاتھا،کہ 31 اکتوبرتک پا کستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افغانیوں کو اپنے ملک افغانستان بھیجا جائے گا،ڈی سی نے کہا کہ 31 اکتوبر کے بعد رہ جانے والے افغانیوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔یاد رہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی کے دوران افغان مہاجرین کی بڑی تعداد پچھلے 40 سال سے پاکستان میں مقیم تھی، ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں، جن کی پیدائش بھی پاکستان میں ہوئی تھیں، جس میں اکثر افغانیوں کی پاکستان میں بڑے بڑے کاروبار اور جائدادیں تھے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں نے پاکستانی شناختی کارڈز اور پاسپورٹ حاصل کئے تھے جن کے خلاف حکومتی سطح پر سخت ترین اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے،تاہم اس سے قبل کئی مرتبہ اس طرح کے احکامات حکومت پاکستان نے جاری کئے تھے لیکن بعد میں ایسے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پایا ہے۔اس مرتبہ یہ فیصلہ ایسے وقت اور حالات میں کیاگیا ہے، کہ غیرقانونی مقیم رہائش پذیر افغانیوں کو ہر صورت میں اپنے ملک بھیجا جائے گا۔