اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان سے غیر قانونی غیر ملکیوں کے انخلاء کے معاملے پر امریکا سمیت کسی کا دباؤ نہیں، نہ ہم کسی ملک کا دباؤ قبول کرتے ہیں اور نہ ہم پر کوئی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ دہشت گردی ہو یا حالت جنگ انتخابی عمل متاثر نہیں ہو گا۔ دہشت گردوں کی سرکوبی پاکستان اور افغانستان کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ غزہ کے لئے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان مطمئن نہیں ہیں تو پاکستان کیسے مطمئن ہو سکتا ہے۔غزہ کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ او آئی سی کے اجلاس میں غزہ میں جاری فوری تشدد کے خاتمے اور امدادی سامان کی ترسیل کے لئے فوری طور پر راہداری کھولنے کے معاملے پر بات ہو گی۔ ڈھائی لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکین وطن پاکستان سے واپس جا چکے ہیں۔ وہ باشندے جو کسی اور ملک کی سہولت سے دستاویزات کے ساتھ یہاں موجود تھے انہیں بھی واپس جانا ہے کچھ بھی ہو جائے غیر قانونی تارکین وطن کی انخلاء کی پالیسی سے واپسی ممکن نہیں ہے۔ صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی افغانوں کے خلاف جاری کارروائی کے حوالے سے کوئی پشتون نشانہ نہ بنے، کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو وزیر اعظم ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔نگران وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گرد افغانستان کی سر زمین استعمال کرتے ہیں، پاکستان میں ہونے والے حملوں کی معلومات افغانستان کو فراہم کی گئیں، افغانستان کی عبوری حکومت کو ادراک ہونا چاہیے کہ دونوں خود مختار ممالک ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو جاری رکھیں گے، پاکستان میں بے امنی پھیلانے والوں میں غیر قانونی تارکینِ وطن کا ہاتھ ہے، دہشت گردوں سے متعلق معلومات افغان حکومت کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں۔انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بدقسمتی سے افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد دہشت گردی میں 60 فیصد اضافہ ہوا، جب بھی افغانستان پر کوئی مصیبت آئی پاکستان نے بھرپور مدد کی، 40 لاکھ افغان شہریوں کو کھلے دل سے ویلکم کیا۔نگران وزیرِ اعظم نے کہا کہ امید ہے کہ افغان حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے گی، افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہمارے اور افغانستان کے حق میں ہے، پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف افغانستان نے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 سال میں افغانستان کی سر زمین سے دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ ہوا، 2 سال میں سرحد پار دہشت گردی کی وجہ سے 2 ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہوئے، 64 افغان دہشت گرد پاکستانی سکیورٹی فورسز سے لڑتے ہوئے مارے گئے، کوشش تھی ایسے معاملات کو میڈیا پر لائے بغیر افہام و تفہیم سے حل کر لیا جائے، افسوس کہ افغان حکام کے بیانات کی وجہ سے معاملات افہام و تفہیم سے حل نہ ہو سکے، افغان حکومت کی جانب سے مثبت ردِعمل نہ آنے پر معاملات خود ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا ہے، افغان رہنمائوں کے حالیہ بیانات کے بعد حملوں میں تیزی آنا معنی خیز ہے، میرا نہیں خیال کہ حالیہ دہشت گردی کا الیکشن سے کوئی تعلق ہے۔انہوںنے کہا کہ 25 ہزار افغانوں کا ڈیٹا پاکستان کے پاس موجود ہے، ان کو مختلف ممالک میں جانا ہے، ان 25 ہزار افغانوں کو لے جانے والے بھی تیار ہیں، ہم انہیں اپنے پاس نہیں رکھیں گے، پاکستان نے لاکھوں مہاجرین کی 4 دہائیوں تک میزبانی کی، تصدیق شدہ دستاویزات کے حامل 14 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں رہائش پذیر ہیں، رضا کارانہ جانے والے افغان شہریوں کو عزت و احترام کے ساتھ واپس بھیج رہے ہیں، نگران وزیراعظم نے کہا کہ ہم افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی دہشت گردی میں ملوث وہاں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کو ہمارے حوالے کرے، پاکستان ایسے تمام لوگوں کو وصول کرنے کے لیے تیار ہے، دوسری صورت میں ہم افغان حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کی سرکوبی کے لیے تمام اقدمات عمل میں لائے گی۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات ثقافت اور بھائی چارے پر مبنی ہیں، پاکستان کے اوپر امریکہ سمیت کسی بھی ملک کا کسی بھی قسم کا کوئی دبا ئونہیں، نہ ہم کسی ملک کا دباؤ قبول کرتے ہیں اور نہ ہم پر کوئی دباؤ ڈال سکتا ، افغانستان ہمارا پانچواں صوبہ نہیں، الگ ملک ہے۔انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ غزہ کی صورتِ حال میں جتنی امداد کی جائے کم ہے، غزہ میں بچوں اور خواتین کو شہید کیا جا رہا ہے، ہسپتالوں پر حملے ہو رہے ہیں، وہاں جو ظلم ہو رہا ہے ایسا ظلم صدیوں میں کسی کے ساتھ نہیں ہوا، سعودی عرب میں غزہ کی صورتِ حال پر اجلاس ہو رہا ہے۔صحافی نے سوال کیا کہ کراچی میں افغانوں کے علاوہ دیگر ممالک کے لوگ بھی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں کیا ان کو بھی نکالیں گے؟۔نگران وزیرِ اعظم نے جواب دیا کہ کیا سارے کام ہم سے کرانے ہیں، کوئی سفیر مجھ سے کوئی مطالبہ نہیں کر سکتا، دہشت گردوں نے ہمارے ملک کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے، چاہے الیکشن ہوں یا نارمل حالات ہوں ہمیں اپنی تیاری رکھنی ہے، ہمارے کچھ خدشات ہیں، ہم الرٹ ہیں اور تمام پہلوئوں پر غور کر رہے ہیں، کچھ بھی ہو جائے اس پالیسی سے واپسی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ اب بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے اس کے شواہد سامنے آ چکے ہیں، ڈیڑھ لاکھ افغان ملٹری تھی، اس کا اسلحہ کہاں گیا؟ یہ امریکی اسلحہ مشرقِ وسطیٰ تک جا رہا ہے۔