شانگلہ(مانند نیوز)درہ آدم خیل میں دو مختلف حادثات۔ شانگلہ سے تعلق رکھنے والے2 کان کن مزدوزجان بحق ہو گئے۔جان بحق مزدوروں میں درہ آدم خیل ایوب کول کمپنی میں محمد فروز جبکہ بازی خیل کول کمپنی میں بخت زادہ جان کی بازی ہار گئے دونوں کا تعلق شانگلہ سے ہیں۔بخت زادہ سکنہ ڈھیرئی تحصیل الپوری ضلع شانگلہ کا رہائشی بازی خیل کول کمپنی کے مائن میں حرکت قلب بند ہونے سے چل بسے جبکہ محمد فروز سکنہ پاگوڑئی تحصیل الپوری ضلع شانگلہ ظفر عالم لیز حاجی ایوب کول کمپنی میں جان بحق۔آئے روز کوئلہ کے کانوں میں شانگلہ کے لوگوں کے ساتھ حادثات معمول بن چکے ہیں۔ کان کنی سے وابستہ شانگلہ کہ ہزاروں مزدور کی تو نہ رجسٹریشن ہے اور نہ ہی کوئی دوسری سہولت میسر ہے۔2013 میں کی گئی سروے کے مطابق شانگلہ میں 65 فیصد سے زائد لوگوں کا دارومدار براہ راست کوئلہ کان سے ہیں تا ہم شانگلہ میں ان کوئلہ کان کنوں کے لیے نہ تو کوئی ہسپتال ہے نہ ان کے بچوں کے لیے سکول اور نہ کوئی دوسری سہولت موجود ہے۔وقت کی ضرورت ہے کہ شانگلہ سمیت تمام کوئلہ کان مزدوروں کو قانونی دائرے میں لایا جائے۔پہلے ان تمام مزدوروں کے کوائف اکھٹا کئے جائے اور رجسٹریشن کی جائے تمام کوئلہ کان لیز ہولڈرز کو رجسٹر کیا جائے،غیرقانونی اور سیل کوئلہ کانوں کی بندش کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئے روز ان حادثات کا روک تھام ہوسکیں،مزدوروں کو ان کا حق ملے اور حادثے کے صورت میں ان کے جائز حقوق میسر ہوسکے۔