پشاور(پریس ریلیز) خیبرپختونخوا حکومت کی عدم توجہ سے محکمہ ٹرانسپورٹ کی لائسنس ڈپیارنمنٹ تاحال بنک سے محروم ہے جس کی وجہ سے کمپیوٹرائز لائسنس حاصل کرنے والے بنک چالان جمع کرنے کے نام پر300 روپے اضافی ٹاؤٹ کو دینے پر مجبور ہیں جبکہ کمپیوٹرائز لائسنس ہونے کے باوجود فارم و فائل کے نام پر80روپے، لائسنس ریونیول پر ریکارڈ چکنگ کے نام پر 50روپے،ڈاکٹر 110روپے کی بجائے 150روپے اورفرش ایل ٹی وی، پی ایس وی اور ایچ ٹی وی فیس بالترتیب1000روپے،1500اور2000روپے کے ساتھ بنک فیس 110روپے جبکہ ساتھ ٹاؤٹ کو 300روپے اضافی دینا پڑتاہیں جس کی وجہ سے عام آدمی اور ڈرائیورحضرات رشوت دینے پر مجبور ہیں دوسری جانب 1000روپے اضافی رشوت دینے کی صورت میں اسی صورت میں لائسنس مل جاتا ہے جبکہ مقررہ فیس بمع اورچارچکنگ کی صورت میں 15دن بعد نیا اور ریونیول لائسنس دیا جاتاہیں۔ اس سلسلے میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ سے رابطہ نہ ہوسکا تاہم ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ مجاہدبنگش کا کہناہے کہ ریجنل ٹرانسپورٹ دفتر جی ٹی روڈ گلبہار میں بنک نہ ہونے پر چالان کچہری خزانہ میں جمع کی جاتی ہے اورلوگ ٹائم بچت کی حاطر ٹاؤٹ کو 300روپے اضافی دے کرلائسنس فیس جمع کراتے ہیں جس کی تدارک کے لئے جلد انتظام کیا جائیگا جبکہ حکومت سے آرٹی اے ریجنل آفس میں خیبربنک کی شاخ کھولنے کیلئے رابطہ کرلیاہے لیکن ابھی تک پیش رفت نہ ہوسکی۔