پشاور(پریس ریلیز)تنظیم الاخوان پاکستان کے امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ بندہ مومن پر زندگی میں کتنے ہی کٹھن مراحل آجائیں اگر وہ خلوص دل کے ساتھ رجو ع الی اللہ کرے تو بڑے احسن طریقے سے اس میں سے نکل آتاہے۔اور تعلق مع اللہ سے اُسے وہ قوت ملتی ہے کہ اُس کے فیصلے دین اسلام کے تحت ہوتے ہیں اور اُنہی میں بھلائی ہوتی ہے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی صالح عمل کے لیے رزق حلال بھی ہو اور طیب بھی یہ لازم و ملزوم ہیں کفریہ طاقتیں جہاں مسلمانوں کے لیے بے حیائی اور فحاشی کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں وہاں وہ ہمارے کھانوں میں حرام کی آمیزش کر رہے ہیں کیونکہ حرام کھا کر عمل صالح نہیں ہو سکتا۔حرام کھا کر بندہ برائی ہی کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حج اور عمرہ کی عظمتیں دیکھیں وہاں جگہ نہیں ملتی جب حاجی پلٹ کر آتے ہیں تو معاشرے میں ہمیں نظرکیوں نہیں آتے؟ حقوق و فرائض کی ادائیگی میں کہاں ہیں،حاجی تو ہر جگہ موجود ہیں لیکن معاملات میں نظر کیوں نہیں آتے۔تو پتہ چلا کہ جب ادائیگی خالص اللہ کے لیے ہو گی تب معاملات بھی درست نظر آئیں گے معاشرے میں بھی خوبصورتی نظر آئے گی۔مشکل تب پیش آتی ہے جب ہم سیدھے راستے سے ہٹ جاتے ہیں جنگل اور جھاڑیوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔عبادات پورے خلوص سے ادا ہوں تو حالات بدل جاتے ہیں۔ہماری مصرفیت میں سب سے پہلے ہم نماز چھوڑ تے ہیں جو فرائض میں سب سے بڑا فرض ہے معراج شریف کا تحفہ ہے۔نماز اللہ کی نہیں ہماری ضرورت ہے جیسے وجود کے لیے کھانے کی ضرورت ہے اس سے زیادہ ضرورت فرائض کی ہے۔خوراک اور سانس کتنی دیر چلے گی جب کہ فرائض کی ادائیگی آخرت میں بھی ہمارے کام آئے گی۔