وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر تحصیل توئی خولہ سے تعلق رکھمے والا سماجی شخصیت داؤد خان دوتانی نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ تحصیل توئی خولہ میں گزشتہ ایک ماہ سے نیٹ ورک بحالی کے بارے میں اختجاجی دھرنا جاری ہے لیکن حکومت انکے مطالبات حل کرانے میں سنجیدہ نہیں، داؤد خان دوتانی نے کہا کہ چند دن پہلے حکومت نے موبائل ٹاور لگانے کیلئے سروے ٹیم بھیجا گیا تھا، انہوں نے صرف سروے کر کے عائب ہوگئے، لیکن علاقہ مکین ابتک اس پر عملی کام شروع کرنے کی انتظار میں بیٹھے ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحصیل توئی خولہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے لیکن بدقسمتی سے اس جدید دور میں زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ تحصیل توئی خولہ کے زیادہ تر لوگ بیرون ممالک میں ہے، نیٹ ورک نہ ہونے کیوجہ میں مہینوں تک اپنے پیاروں سے رابطہ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بار بار دعوے کر رہی ہے کہ لوگوں کو بنیادی سہولت فراہم کرنے کے لئے وہ لگاتار اقدامات کر رہی ہے لیکن زمینی سطح پر یہ دعوے کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں۔ تحصیل توئی خلہ کے لوگ بنیادی سہولت سے محروم ہے۔ یہاں سڑک اور پانی کی سہولت میسر ہے لیکن نہ ہونے کی برابر ہے، لوگوں کو چلنے پھرنے میں کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے انہیں آج تک نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحصیل توئی خلہ کی سینکڑوں گھرانوں پر مشتمل وہ بدقسمت علاقہ ہے جس کی ہزاروں افراد پر مشتمل آبادی صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ توئی خلہ کے غریب لوگ علاج کیلئے اپنے علاقے سے کئی کلومیٹر دور وانا لے کر جاتے ہیں۔ ایک مریض کیلئے بیماری کی حالت میں دور جانا ظلم سے کم نہیں، اور ہماری سرکار خوشی خوشی ان غریب مریضوں پر ستم کے یہ پہاڑ توڑ رہی ہے۔ آخر میں داؤد خان دوتانی نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ توئی خلہ کے اختجاجی دھرنے کی جائز مطالبات مان لیں، ورنہ تحصیل توئی خولہ دھرنے کا آئندہ لائحہ عمل بہت سخت ہوگا۔